سائنس خدا کو مار نہیں سکی، معروف ماہر طبیعیات گلائزر کا موقف | معاشرہ | DW | 19.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سائنس خدا کو مار نہیں سکی، معروف ماہر طبیعیات گلائزر کا موقف

معروف ماہر طبیعیات مارسیلو گلائزر کو امسالہ ٹیمپلٹن انعام دے دیا گیا ہے، جو ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جو زندگی کے روحانی پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے غیر معمولی خدمات انجام دیتی ہیں۔ گلائزر کے بقول سائنس خدا کو مار نہیں سکی۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق برازیلین ماہر طبیعیات مارسیلو گلائزر کو سال 2019ء کا ٹیمپلٹن پرائز آج منگل انیس مارچ کو دیا گیا۔ وہ نظریاتی طبیعیات کے ایک ایسے معروف ماہر ہیں، جنہوں نے سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی اس امر کی عملی وضاحت کے لیے بھی وقف کر رکھی ہے کہ سائنس اور مذہب آپس میں ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں۔

ریو ڈی جنیرو میں پیدا ہونے والے اور اس وقت 60 سالہ مارسیلو گلائزر 1986ء سے امریکا میں رہائش پذیر ہیں اور وہ بیک وقت طبیعیات اور علم فلکیات دونوں کے پروفیسر بھی ہیں۔ ان کے بہت باریک بین مطالعے اور تحقیق کا خصوصی شعبہ کاسمالوجی یا علم الکائنات ہے۔

پروفیسر مارسیلو گلائ‍زر کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک ناستک کے طور پر وہ خود تو خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتے لیکن وہ خدا کے وجود کے امکان کی نفی کر دینے سے بھی مکمل انکار کر دیتے ہیں۔ پروفیسر گلائ‍زر 1991ء سے امریکا کی نیو ہیمپشائر یونیورسٹی کے ڈارٹ ماؤتھ کالج میں پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے وہاں سے اے ایف پی کے ساتھ ایک ٹیلی فون گفتگو میں پیر اٹھارہ مارچ کو بتایا، ’’لادینیت سائنسی طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتی۔‘‘

لادینیت اور سائنسی طریقہ کار

انہوں نے اپنے اس موقف کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا، ’’لادینیت یا کسی بھی مذہبی عقیدے پر یقین نہ رکھنا دراصل بے عقیدہ ہونے پر یقین رکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے ایسا کرتے ہوئے آپ بنیادی طور پر ایک ایسے وجود کا سرے سے انکار کر دیتے ہیں، جس کے خلاف دراصل آپ کے پاس کوئی ثبوت ہوتا ہی نہیں۔‘‘

تو پھر مذہب اور خدا پر یقین کے حوالے سے انسان کو کرنا کیا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں مارسیلو گلائزر نے کہا، ’’میں اپنا ذہن کھلا رکھوں گا کیونکہ مجھے سمجھ آ چکی ہے کہ انسانوں کا علم محدود ہے۔‘‘

خدا کے وجود کے شواہد کی تلاش

پروفیسر گلائزر کو جس ٹیمپلٹن پرائز سے نوازا گیا ہے، اس کی بنیاد امریکا میں جان ٹیمپلٹن فاؤنڈیشن نے رکھی تھی۔ یہ ایک ایسی انسان دوست فلاحی تنظیم ہے، جس کا نام امریکی پریسبیٹیریئن بزنس مین جان ٹیمپلٹن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ جان ٹیمپلٹن نے اپنی زندگی میں نیو یارک کی وال سٹریٹ کے ذریعے بے تحاشا رقوم کمائی تھیں۔ انہوں نے بعد ازاں اس بات کو اپنا مقصد حیات بنا لیا تھا کہ سائنسی علوم کے ہر شعبے میں خدا کے وجود کے شواہد تلاش کیے جائیں۔

یہ انعام دیے جانے کا سلسہ 1973 میں شروع کیا گیا تھا۔ اب تک یہ اعزاز کئی دیگر شخصیات کے علاوہ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو، دلائی لاما اور سابق سوویت یونین کے منحرف مصنف آلیکسانڈر سولژےنِٹسن کو بھی دیا جا چکا ہے۔ اس انعام کے ساتھ ڈیڑھ ملین امریکی ڈالر کی نقد رقم بھی دی جاتی ہے، جو کسی بھی نوبل انعام کے ساتھ دی جانے والی رقم سے بھی زیادہ ہے۔

مارسیلو گلائزر کی توجہ کے محور

پیدائشی طور پر برازیل سے تعلق رکھنے والے نظریاتی فزکس کے پروفیسر گلائزر اس بات پر خصوصی توجہ دیتے ہیں کہ بہت پیچیدہ موضوعات کو آسان اور قابل فہم بنا دیا جائے۔

وہ اب تک ماحولیاتی تبدیلیوں، آئن سٹائن، موسمیاتی طوفانوں، کائنات میں پائے جانے والے بلیک ہولز اور انسانی ضمیر جیسے بہت سے متنوع موضوعات پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔

ان کی خاص کوشش یہ ہوتی ہے کہ مادی سائنسی علوم اور فلسفے سمیت جملہ انسانی علوم کے مابین رابطے تلاش کیے جائیں۔

مارسیلو گلائزر انگریزی میں لکھی گئی پانچ کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور امریکا اور برازیل کے میڈیا میں ان کے سینکڑوں مضامین اور بلاگز بھی شائع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے آج تک خاص طور پر اس بارے میں بہت گہرائی میں جا کر کھوج لگانے کی کوشش بھی کی ہے کہ کائنات اور زندگی کی ابتدا سے متعلق سوالات کے سائنس اور مذہب کی طرف سے کس طرح کے جوابات دیے جاتے ہیں۔

سائنس اور مذہب میں تجسس بھی اہم قدر مشترک

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ’’مثال کے طور پر بائبل میں پہلا بیان ہی تخلیق سے متعلق ہے۔ آپ کا مذہب کوئی بھی ہو، ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ کائنات کس طرح وجود میں آئی۔ اس لیے یہی تجسس سائنس اور مذہب میں پائی جانے والی ایک اہم قدر مشترک بھی ہے، جو دونوں کو ایک طرح سے جوڑ بھی دیتی ہے، حالانکہ دونوں کے اپنے اپنے جوابات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔‘‘

امسالہ ٹیمپلٹن پرائز پانے والے پروفیسر گلائزر نے مزید کہا، ’’سائنس مفروضوں کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ آپ تجربات کرتے ہیں اور مفروضوں کو رد کرتے جاتے ہیں۔ لیکن سائنس بھی صرف ایک خاص حد تک ہی آپ کو جوابات دی پاتی ہے۔‘‘ پروفیسر گلائزر نے، جو پانچ بچوں کے والد ہیں، بتایا، ’’ فلسفہ اس مسئلے سے بخوبی واقف ہے۔ اولین سبب۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں پہنچ کر ہم آگے نہیں جا پاتے۔‘‘

سائنس خدا کو مار نہیں سکی

پروفیسر گلائزر نے اپنے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا، ’’مذہب پر یقین رکھنے والے سائنس کو اپنے دشمن کی جگہ پر رکھتے ہوئے سوچتے ہیں۔ اسی طرح سائنسدان بھی اس طرح کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے انہیں لازمی طور پر خدا کو مارنا ہے۔ بات یہ ہے کہ سائنس اور مذہب دشمن نہیں ہیں اور نہ ہی سائنس اب تک خدا کو مار سکی ہے۔ اس لیے کہ ایک متجسس راستے کے طور پر سائنس خدا کو مارتی تو ہے ہی نہیں۔‘‘

مذہب صرف خدا پر یقین ہی نہیں

ریو ڈی جنیرو کی مقامی یہودی آبادی میں پلنے بڑھنے والے مارسیلو گلائزر کے بقول مذہب صرف اس بات کا نام نہیں کہ خدا پر یقین لایا جائے۔ یہ ایک طرح کی شناخت اور انسانی برادری کے بطور پر ایک پہچان بھی ہے۔ ’’میری رائے میں دنیا کی کم از کم نصف آبادی مذہب کو اسی طرح سے دیکھتی ہے۔‘‘

DW.COM