زیادہ درخت، کم کاریں: شہروں کے صاف ماحول کے لیے لازمی | سائنس اور ماحول | DW | 11.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

زیادہ درخت، کم کاریں: شہروں کے صاف ماحول کے لیے لازمی

دنیا بھر میں شہروں میں بڑھتے ہوئے کار کلچر کی وجہ سے شہری فضا آلودہ ہوتی جا رہی ہے۔ کئی شہروں میں نوے فیصد لوگوں کو آلودہ ہوا میں سانس لینا پڑتا ہے۔

عالمی ادارہٴ صحت کے مطابق کاروں کے بڑھتے استعمال اور ان سے نکلتے دھوئیں سے دنیا کے مختلف شہروں کا ماحول آلودہ ہو چکا ہے۔ اس باعث کئی شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح انتہائی بلند ہے اور وہاں رہنے والے لوگوں کو آلودہ ہوا میں سانس لینا پڑتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ایسے نقصان دہ فضائی ماحول کے حامل شہروں میں سالانہ بنیاد پر ہونے والی ہلاکتیں ستر لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔

شہروں کے آلودہ ماحول پر تشویش ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں منعقدہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی بین الاقوامی کانفرنس میں سنی گئی۔ کوپن ہیگن میں مختلف شہروں کے میئروں کی سی فورٹی (C40) سمٹ جاری ہے۔ اس کانفرنس میں شریک اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے دنیا کے بڑے شہروں میں پیدا آلودگی کی صورت حال کو سنگین قرار دیا۔

Iran Teheran Stau im Autoverkehr (picture-alliance/Photoshot/A. Halabisaz)

کاروں کے بڑھتے استعمال اور ان سے نکلتے دھوئیں سے دنیا کے مختلف شہروں کا ماحول آلودہ ہو چکا ہے

ڈنمارک کے دارالحکومت میں منعقدہ کلائمیٹ کانفرنس میں نوے شہروں کے میئرز شریک ہیں جن کی مجموعی آبادی نو سو ملین کے قریب ہے۔ اس کانفرنس میں شرکا نے شہروں کے اندر کاروں کی تعداد کو کم کرنے اور دھواں چھوڑنے والی موٹر کاروں پر جرمانے عائد کرنے پر بظاہر اصولی اتفاق کیا۔

ڈنمارک کے وفد نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں عملی اقدامات کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ میئروں کی سمٹ میں اس پر بھی اتفاق کیا گیا کہ شہروں کو مزید آلودگی سے بچانے کے لیے عوام دوست اقدامات اب ضروری ہو چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سستی بس سروس یا کم کِرائے متعارف کروانے کو بھی اہم قرار دیا گیا تا کہ عام لوگ کاروں کے استعمال کو ترک کر کے بس سروس کو فوقیت دیں۔

اس بین الاقوامی کانفرنس میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے بڑے شہر لاس اینجلس سے جاپانی دارالحکومت ٹوکیو تک مختلف چونتیس شہروں کے میئروں نے اصول طور پر سن 2030 تک فضائی آلودگی کی سطح کو کم کر کے اس میں بہتری عالمی ادارہٴ صحت کے مقرر کردہ معیار تک لانے کا عہد کیا۔ اگر ایسا ممکن ہوا تو اس اقدام سے سالانہ بنیاد پر چالیس ہزار افراد کی زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔

کوپن ہیگن میں میئر سمٹ میں تقریر کرتے ہوئے لندن کے میئر صادق خان کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی کسی مقام یا ملک کا نہیں بلکہ عالمی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ خان کے مطابق شہری انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت یقینی بنائے اور ان کے لیے ایسا ماحول فراہم کرے جس میں ہر قسم کے خطرناک اثرات انسانی زندگی پر مرتب نہ ہو سکیں۔

Indien: Umweltbelastung und Luftverschmutzung in Neu-Delhi (Getty Images/AFP/R. Schmidt)

نقصان دہ فضائی ماحول کے حامل شہروں میں سالانہ بنیاد پر ہونے والی ہلاکتیں ستر لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔

ڈنمارک کے دارالحکومت میں عالمی میئرز سمٹ کا مقام کوپن ہیگن کے انتہائی قرب میں واقع ایک گاؤں ہے، جو ماضی میں وائیکنگ جنگجو نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ اس گاؤں کے ماحول کو صاف ستھرا اور انسان دوست بنانے کے لیے متبادل توانائی پر انحصار کیا گیا ہے۔ بجلی کی مکمل فراہمی ہوا سے چلنے والے ٹربائن سے کی جاتی ہے۔

یہ سمٹ ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب دنیا میں کلائمیٹ چینج کے حوالے سے احتجاج اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ میئرز سمٹ کا آغاز بدھ نو اکتوبر کو ہوا۔ افتتاح کے موقع پر بھی مقامی ماحول دوست گروپ نے احتجاج کا بندوبست کیا اور اس میں کئی وفود کے شرکاء بھی شریک ہوئے۔

اس گروپ (Klima Aktion DK) کا کہنا ہے کہ میئروں کو یہ بات اپنے سامنے رکھنی چاہیے کہ اُن کے شہروں کے لوگ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب وہ عملی اقدامات کا سلسلہ شروع کرکے اُن کی اور اگلی نسل کی زندگیوں کو محفوظ بناتے ہیں۔

ع ح ⁄  ا ب ا (روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 03:23

جرمنی میں سمندری حیات کو بچانے کی کوشش

DW.COM

Audios and videos on the topic