زندگی کا بجٹ موت پر لگانے والے ایٹمی پڑوسی | دستک | DW | 24.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

زندگی کا بجٹ موت پر لگانے والے ایٹمی پڑوسی

ہندوستان اور پاکستان کے پاس زندگی چھیننے کا ایک سے بڑھ کر ایک ذریعہ موجود ہے۔ توپ و تفنگ، تیر و تبر، شمشیر و سنا، طیارے ہرکارے اور بم بارود کیا ہے، جو ان کے پاس نہیں ہے۔

DW Urdu Blogger Farnood Alam

فرنود عالم کا تازہ بلاگ پڑھیے۔

ستر برسوں کی جنگی مقابلہ بازیوں میں کبھی ایک نے برتری کا دعوی کیا تو کبھی دوسرے نے غلبے کے بھاشن دیے۔ فتح و نصرت اور عزم و ہمت کے کون کون سے حوالے ہیں، جو ان کے نصابوں، کہانیوں اور فلموں میں موجود نہیں ہیں۔

وقت پڑا تو معلوم ہوا کہ پون صدی سے یہ مقابلہ موت کی خیرات بانٹنے میں ہو رہا تھا۔ زندگی کے امتحان میں جب سانسوں کا سوال آیا تو بندہ بشر کو دینے کے لیے ان کے پاس نا تو آکسیجن سیلینڈر تھا اور نہ ہی وینٹی لیٹر۔

مشکل یہ ہے کہ انڈو۔پاک کے شفا خانوں میں بھاگتے دوڑتے تیمار دار اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کہ بازار میں سانسوں کا بحران اس لیے پیدا ہوا ہے کہ یہاں زندگی کا بجٹ موت پر لگ گیا ہے۔

یہ بھی پرھیے ۔ پاکستان: کسی ایک دن میں سب سے زیادہ کورونا کیسز اور ہلاکتیں

بہت بڑا سرمایہ خرچ کرکے اِن کی سانسیں صرف اس لیے چھینی گئی تھیں کہ موت کی افزائش کی جاسکے۔ اب بے بسی کی تصویر بن کر یہ سانسیں واپس مانگ رہے ہیں، مگر موت کے آستین میں پھونکی ہوئی سانس اگر واپس آتی بھی ہیں تو زندگی کو ساتھ لے جانے کے لیے آتی ہیں۔

بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہر دوسرا شخص یہاں عقیدے کا محدب عدسہ جیب میں لیے پھرتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے، جہاں گفتگو کی رہی سہی گنجائش بھی ختم ہو جاتی ہے۔ سیاسی دھڑے اور دیگر عوامی حلقے بھی غفلت کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں، مگر یہ وہ دائرہ ہے، جہاں کم سے کم کلام ہو سکتا ہے۔ ان میں بھی بیشتر وہ ہیں، جن کے پاس دلیلیں کم پڑ جائیں تو عقیدے کے بکتر بند مورچے میں پناہ لے لیتے ہیں۔ یہاں سے آگے ایک گہری چپ کے سوا  آپ کے پاس کچھ نہیں رہ جاتا۔

 زندگی اور عقیدے کا موازنہ ہو تو ہمیں عقیدہ ہی رکھنا ہوتا ہے اور زندگی کو تپتے صحرا میں تڑپنے کے لیے پیاسا چھوڑنا پڑتا ہے۔ عقیدے کا احترام ہم سب پر لازم ہے، مگر قوم اگر باشعور ہو تو اسے ریاست سے جیسے تیسے پوچھنا تو چاہیے کہ گاؤ ماتا کے لیے ایمبولینس سروس کی تجویز دینے والی سرکار نے یہی فکر مندی اپنی جنتا کے لیے کیوں نہیں دکھائی۔

سوال بھی لیکن تب اٹھے نا کہ جب جنتا کو بھی زندگی اور شعور سے کسی درجے میں پیار ہو۔ جنتا تو زندگی اور شعور کا سوال محلے میں چھوڑ کر کمبھ کے میلے میں پہنچی ہوئی ہے۔

جتنا کوئی جنتا کو سمجھاتا ہے، اتُنی ہی وہ گہری ڈبگی ندی میں لگاتی ہے۔ ہڑ بڑاتے ہوئے باہر نکلتی ہے تو کہتی ہے، 'کسی کو چِنتا کرنے کی جرورت ناہی ہے ایشور کورونا  کو ہم سے دور رکھے گا‘۔

 یہ بات کمبھ میلے کے لاکھوں شرکا ہی نہیں کر رہے، اترا کھنڈ کا وزیر اعلی بھی ہر سوال کے جواب میں یہی کچھ کہہ رہا ہے۔ اب کون ہے جو وزیر اعلی اور اس کی رعایا سے ایشور کا مستقل پتہ پوچھنے کی چھوٹی سی جسارت بھی کر لے۔

یہ بھی پرھیے ۔ کورونا وائرس کے باعث بھارتی نظام صحت شدید بحران اور دباؤ میں

طرفہ تماشا یہ ہے کہ موت کے تابڑ توڑ حملوں میں بھی الزامات کا ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ چلا ہوا ہے۔ کمبھ کے میلے میں موجود عقیدت مند ہر نصیحت کے بعد پوچھتے ہیں کہ تمہاری نصیحتیں تب کہاں تھیں، جب تبلیغی جماعت دلی کے مرکز نظام الدین میں اجتماع کر رہی تھی۔

تبلیغی جماعت کے بستر بند کارکن نکلتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جب مندر میں گھنٹہ بج سکتا ہے تو گنبد سے آواز کیوں نہیں آسکتی۔ اتنی سی بات سمجھنے کو کوئی تیار نہیں ہے کہ معاملہ کسی مذہب پر پابندی کا نہیں ہے۔ معاملہ تو دراصل زندگی کا ہے، جو تم بھی ہو اور میں بھی ہوں۔ 

پہلے یہ ، پہلے وہ ، والا یہی گھن چکر ٹھیک ایک برس پہلے رمضان کے اسی مہینے میں یہاں پاکستان میں چلا تھا۔ ظاہر ہے، آئی پی ایل ہوگا، تو پی ایس ایل بھی ہو گا۔ پاکستان میں اہل تشیع اپنے عقیدت کا نعرہ لگاتے ہوئے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ نکلے۔ الاپنے کو ان کے پاس وہی راگ تھا کہ جب سنیوں کو تراویح اور جمعے سے روک لو تو نصیحت کا پٹارا لے کر ہمارے پاس بھی آجانا۔

ہر معاملے میں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے، کم از کم وبا کی نیاز تو دونوں فرقوں میں برابر بٹنی چاہیے۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ سنییوں نے اپنا وضو آدھے میں چھوڑا اور میدان میں  اتر گئے کہ وبا ساری کی ساری ہماری ہے یہ ہم کسی کافرِ مطلق کو ہرگز نہیں دیں گے۔ خود کش حملے کافی نہیں تھے کیا تمہارے لیے جو اب وبائی موت میں بھی حصہ لینے آ گئے، ہیں؟ ٹھینگا ملے گا تمہیں اس میں سے۔ 

ہماری اس زورا زوری کا نتیجہ کورونا کی تیسری لہر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جو بھیانک نتائج ہمیں نظر آرہے ہیں یہ وہ ہیں، جو ہسپتالوں میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔ کورونا کے اعداد و شمار کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ وہی جنسی تشدد اور ہراسانی والا ہے۔ جنسی تشدد کے ہر واقعے کے بعد ہم دوسرے ممالک کی رپورٹیں اٹھا کر منہ پر مار دیتے ہیں کہ یہ دیکھو وہاں جنسی ہراسانی کا چیلنج یہاں سے زیادہ ہے۔ یعنی حادثہ اگر رپورٹ نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ حادثہ سرے سے ہوا ہی نہیں؟ حادثہ یہ ہے کہ یہاں کووڈ انیس تیزی سے پھیل رہا ہے، حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ہے کہ کوئی اس عالمی وبا کا اعتراف نہیں کر رہا۔  

کورونا  وبا کی اس تیسری لہر میں آپ نے بھی محسوس کیا ہو گا کہ سوشل میڈیا کی ٹائم لائن موت کا روزنامچہ بنی ہوئی ہے۔ گالم گفتار کے بعد جن الفاظ کا استعمال یہاں سب سے زیادہ ہو رہا ہے وہ  اناللہ وانا الیہ راجعون، ریسٹ اِن پیس، خدا مغفرت کرے اور ڈیپ کنڈولینسز جیسے الفاظ ہیں۔

موت کی خبر دینے والوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو بتائے کہ ہمارے اس پیارے کا انتقال کورونا وائرس کی وجہ سے ہوا ہے۔ اب تو صورتِ حال یہ ہو گئی ہے کہ موت کی خبر دیتے ہوئے ہارٹ اٹیک جیسی کوئی وجہ لازمی ساتھ بتا دی جاتی ہے تاکہ کورونا کو کوئی کسی قسم کا دوش نہ دے سکے۔ 

آپ پوچھیں گے کہ کورونا سے آخر لوگوں کو ایسی کیا ہمدردی ہے کہ وہ اسے ہر قسم کے الزام سے بچانا چاہتے ہیں۔ اچھا سوال ہے۔

بات در اصل یہ ہے کہ کورونا کا اگر اعتراف  کر لیا جائے تو اُن بے احتیاطیوں پر سوال اٹھ جاتا ہے، جو ہزار منع کرنے کے باوجود بھی مرحوم کی طرف سے برتی گئیں۔

وہ لوگ جنہوں نے مذہبی اجتماعات اور رسوم و روایات کے لیے اصرار کیا اُن کا معاملہ پھر زیادہ سنگین ہے۔ ان کے دماغ کے کسی گوشے میں یہ خیال موجود رہتا ہے کہ اگر کورونا کا اعتراف کر لیا جائے تو ہمارے اُن دعووں پر سوال اٹھ جائے گا، جو ہم نے دیوتا، امام اور پیر فقیر کے بھروسے پر کیے تھے۔ دعوؤں میں ایک بڑا دعوی یہ بھی ہے کہ کورونا ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے ۔ کورونا وائرس: پاکستان میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں مریضوں میں ریکارڈ اضافہ

چار قُل ازبر ہوں تو پھر تیراکی جاننا ضروری نہیں ہوتی۔ پڑھ کے پھونکیے اور دریا کے پار لگ جائیے۔ اب حکیم توکل علی خاں موجوں کے رحم و کرم پر ہیں تو نادانی کا اعتراف کرتے ہوئے شرما رہے ہیں۔ یہ تو بس موج بڑے زور کی تھی ورنہ میں ابھی اُس پار کھڑا اپنا دامن نچوڑ رہا ہوتا۔

کُل ملا کر صورتِ حال یہ ہے کہ عقیدوں کے فرق کے ساتھ سرحد کے دونوں اطراف کا شعور ایک ہی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے۔ اسرائیل نے ویکسینیشن کا عمل پورا کرکے ماسک کو تقریبا گڈبائی کہہ دیا ہے، جبکہ پاکستان کے پارلیمان اور کوچہ و بازار میں یہ تقاضا زور پکڑ رہا ہے کہ فرانس کے سفیر کو گڈ بائی کہا جائے۔

ایسے میں عاجز آ کر امر جلیل براہ راست خدا سے دو چار باتیں کرلے تو پچاس لاکھ روپے اُن کے سر کی قیمت لگ جاتی ہے۔ کبھی سنا ہے کہ کسی چارہ ساز کو یہاں پچاس لاکھ کا انعام اس بات پر بھی کسی نے دیا ہو کہ اس نے کسی انسان کا سر بچا لیا ہے؟ اے خدا وندانِ منبر و محراب! اے خدا وندانِ آئین و سیاست!

DW.COM