ریکو ڈک کے ذخائر اور فوج کی دلچسپی | حالات حاضرہ | DW | 12.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ریکو ڈک کے ذخائر اور فوج کی دلچسپی

پاکستان ميں سونے اور تانبے کے ذخائر کئی مقامات میں چھپے ہوئے ہيں البتہ صوبہ بلوچستان ميں رکو ڈک کی کان کو نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی کافی بڑی مانا جاتا ہے۔

رکو ڈک سے متعلق منصوبہ جات سے وابستہ وفاقی و صوبائی حکومت سے منسلک دس موجودہ و سابق اہلکاروں نے بتايا ہے کہ رکو ڈک کے مستقبل کے بارے ميں سامنے آنے والی کسی بھی پيش رفت ميں ملکی فوج اہم ترين فريق ثابت ہو سکتی ہے۔ فوج رکو ڈک کو قومی اثاثے کے طور پر ديکھتی ہے۔ اہلکاروں کے مطابق فوج براہ راست يہ فيصلہ نہيں کر سکتی کہ رکو ڈک سے تانبے اور سونے کے ذخائر نکالنے ميں کن سرمايہ کاروں کو فريق بنانا ہے تاہم فوج کے کنٹرول ميں چلنے والی ’فرنٹيئر ورکس آرگنائزيشن‘ (FWO) اس سلسلے ميں بننے والے کسی بھی کنسورشيم کا حصہ بننے کی کوششوں ميں ہے۔ بلوچستان حکومت کے ايک اہلکار نے فوجی ہيڈ کوارٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’اس پر جی ايچ کيو نے قبضہ کر ليا ہے۔‘‘

دوسری جانب جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے رکو ڈک ميں کردار کے حوالے سے فوج سے سوال کیا، تو فوجی ترجمان نے جواب ديا کہ ’فوج ، رکو ڈک کی ترقی کے ليے حکومت کے منصوبے ميں صرف اور صرف قومی ضروريات کے تحت شامل ہو سکتی ہے‘۔ فوجی ترجمان نے البتہ يہ تسليم کيا کہ ايف ڈبليو او کان کنی ميں خاطر خواہ تجربہ حاصل کر چکی ہے اور رکو ڈک سے متعلق مستقبل کے کسی منصوبے کا حصہ بننے ميں دلچسپی رکھتی ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کے وفاقی وزير اطلاعات فواد چوہدری نے واضح طور پر کہا ہے کہ سويلين  اتھاریٹیز  ہی رکو ڈک منصوبے کی کمان سنبھاليں گی اور حتمی فیصلے وزير اعظم عمران خان سے مشاورت کے بعد کيے جائيں گے۔ تاہم انہوں نے يہ بھی کہا کہ فوج اور ديگر شراکت دار اہم فريق ہيں۔

پاکستان ميں ’Military Inc.‘ نامی کتاب کی مصنف عائشہ صديقہ کہتی ہيں کہ رکو ڈک معاملے ميں بھی فوج نے اہم مقام حاصل کر ليا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ سمجھ چکے ہيں کہ فوج ميں مضبوطی کے ليے اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہونا بھی لازمی ہے۔ اور اقتصادی معاملات پر کنٹرول فوج کے اپنے کاروباری مفادات کے تعاقب ميں مددگار ثابت ہوتا ہے۔‘‘

ريکو ڈک کا تنازعہ در اصل ہے کيا؟

ايران اور افغانستان کی سرحد کے قريب ايک سابقہ آتش فشاں کے نيچے واقع ريکو ڈک کی کان کا منصوبہ چند سابقہ سرمايہ کاروں کے ساتھ جاری تنازعات کی زد ميں ہے۔ عالمی بينک کی نگرانی ميں قائم ايک ٹريبيونل آئندہ چند ماہ ميں اس بارے ميں حتمی فیصلہ سنانے والا ہے کہ پاکستان کو زر تلافی کے طور پر بيرونی کمپنيوں کو کتنی رقم ادا کرنی ہے۔ فريقين گيارہ بلين ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہيں۔ يہ تنازعہ کان کنی کے لائسنسوں کے حوالے سے ہے۔

دريں اثناء حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ نئے سرمايہ کار تلاش کيے جائيں۔ پاکستانی اہلکاروں کے مطابق چين اور سعودی عرب کی جانب سے اس ميں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔

ع س / ک م، روئٹرز

DW.COM