ریبیز کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی ضروری ہے، ماہرین | صحت | DW | 19.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

ریبیز کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی ضروری ہے، ماہرین

پاکستانی صوبہ سندھ کے ایک اہم شہر لاڑکانہ میں منگل کے روز ایک 10 سالہ بچے کی موت کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے لوگوں کے دل دہلا دیے۔

رپورٹس کے مطابق یہ بچہ کتے کے کاٹنے کے بعد لاپرواہی اور اس کی ویکسین نہ ملنے کے سبب موت کے منہ میں چلا گیا۔ مگر بر وقت علاج سے اس کی زندگی بچائی جا سکتی تھی۔ پاکستان میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ پہلے بھی اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق کتے کے کاٹنے سے انسانوں منتقل ہونے والی جان لیوا ریبیز بیماری پر قابو پانے کے لیے پاکستان میں اس کے علامات اور ممکنہ حل کے لیے عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔

ایک بین الاقوامی جریدے میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق، پاکستان میں کتوں سے لگنے والی مہلک بیماری ریبیز کی علامات کے متعلق عوامی سطح پر کم آگاہی، اس بیماری سے متاثر ہونے والے افراد میں علاج معالجے کے سلسلے میں لاپرواہی اور اس بیماری کی روک تھام کے لیے ملکی سطح پر ناقص اقدامات ملک میں اس بیماری سے بڑھتی ہوئی اموات کے واقعات کی اہم وجوہات ہیں۔

رواں ماہ بین الاقوامی تحقیقی جریدے ایکٹا ٹروپیکل (Acta Tropical) میں چھپنے والی اس تحقیق پر کام کرنے والے پاکستان اور چین کے ماہرین امراضِ صحت نے تحقیقی مکالے میں تجویز دی ہے کہ ریبیز نامی بیماری کی علامات کے متعلق قومی سطح پر عوامی آگاہی مہم، روک تھام کے بہتر انتظامات اس پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہیں۔

Ausbruch der Tollwutepidemie im Jemen

ریبیز ایک ایسا وائرل انفیکشن ہے جو بہت مہلک ہے اور اس سے متاثر ہونے والے لوگوں میں سے 99 فیصد کی موت ہو جاتی ہے، تاہم ویکسین کی بروقت دستیابی اور کتوں کی ویکسینیشن سے اس پر سو فیصد قابو پایا جاسکتا ہے۔

ریبیز ایک ایسا وائرل انفیکشن ہے جو بہت مہلک ہے اور اس سے متاثر ہونے والے لوگوں میں سے 99 فیصد کی موت ہو جاتی ہے، تاہم ویکسین کی بروقت دستیابی اور کتوں کی ویکسینیشن سے اس پر سو فیصد قابو پایا جاسکتا ہے۔

ریبیز سے متاثرہ مریض میں اس بیماری کی علامات کتے کے کاٹنے کے تقریباً چھ ہفتے بعد ظاہر ہوتی ہیں، جس میں بخار، سردرد، جسمانی اعضا میں درد، گلے میں جلن اور گٹھن کا احساس شامل ہیں۔   

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں کتے کے کاٹنے سے متاثرہ 434 شہری اور دیہی لوگوں پر کی گئی اس تحقیق کے نتائج سے یہ ثابت ہوا کہ صرف 2.9 فیصد لوگ باخبر ہیں کہ مہلک ریبیز بیماری کتوں کے کاٹنے سے ہوتی ہے، اور صرف 39.8 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی وجہ بننے والے کتوں کی ویکسینیش سے اس مرض کے پھیلنے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 89.4 فیصد لوگوں کو ریبیز بیماری کے متعلق معلومات تو ہیں مگر اس کی علامات کے بارے میں 38.7 فیصد لوگ واقف نہیں ہیں۔

یہ  تحقیقی معلومات جنوری 2018 سے مئی 2018 کے درمیان ایک جامع سوالنامے کے ذریعے اکٹھی کی گئی تھیں، جس کا خاص مقصد پاکستان میں ریبیز بیماری اور اس کے اسباب اور اس سے بچنے کے لیے ممکمنہ طور پر فوری اقدامات کے متعلق لوگوں میں شعور کی سطح کو جانچنا تھا۔

وفاقی وزارت صحت کے زیر انتظام ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں انسانوں کو کتوں کے کاٹنے کے سالانہ ایک لاکھ سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جن میں سے فوری امداد نہ ملنے یا اس بیماری کے متعلق متاثرہ لوگوں کو  معلومات نے ہونے کے باعث ریبیز بیماری سے لگ بگ پانچ ہزار لوگ مرجاتے ہیں۔

اس تحقیقی رپورٹ کے ایک مصنف محمد سہیل افضل ہیں جو یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہورکے لائف سائنسز ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ محمد سہیل افضل کے مطابق ریبیز کے واقعات کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ملکی سطح پرکسی پالیسی کا نہ ہونا، اس مہلک بیماری پر قابو پانے کے لیے درکار ویکسین کی مناسب تعداد میں عدم دستیابی اور اس بیماری کی نگرانی اور اس کے واقعات کے متعلق قابل بھروسہ اعداد وشمار نا ہونا ریبیز کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی روک تھام میں اہم رکاوٹیں ہیں۔

اس تحقیقی مقالے کے ایک شریک مصنف ڈاکٹر ہارون احمد نے، جو اسلام آباد کامسیٹ یونیورسٹی کے بائیوسائنسز ڈپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا، ''یہ جان کر انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ریبیز اب بھی نظر انداز کیا ہوا مسئلہ ہے کیونکہ اس کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کوئی اقدامات ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں۔‘‘

Ausbruch der Tollwutepidemie im Jemen

’’ریبیز بیماری، اس کے اسباب اور سدباب کے حوالے سے عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ کتوں کی ویکسینیشن کو بھی اہمیت دینا ہوگی تاکہ ریبیز کے واقعات کو قابو میں لایا جاسکے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ریبیز بیماری، اس کے اسباب اور سدباب کے حوالے سے عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ کتوں کی ویکسینیشن کو بھی اہمیت دینا ہوگی تاکہ ریبیز کے واقعات کو قابو میں لایا جاسکے۔

ڈاکٹر ہارون احمد نے جو انفیکشن بائیولوجی میں 13 سال کا تحقیقی تجربہ رکھتے ہیں، مزید کہا کہ کتے کے کاٹنے کے بعد لگائی جانی والی ویکسین کی ہسپتالوں میں فراہمی عام اور آسان کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ، اس ویکسین کو سستا کرنا ہوگا تاکہ اس ویکسین کی سرکاری ہسپتالوں میں عدم دستیابی کی صورت میں عام ور غریب لوگ بھی اس کو خرید سکیں کیونکہ اس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ریبیز کے زیادہ تر واقعات دیہی علاقوں میں رونما ہوتے ہیں، جہاں پر بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہوتی ہے۔

وفاقی وزارت صحت کے زیرانتظام ادارہ قومی صحت کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر اکرام کہتے ہیں کہ اس نئی تحقیق کے نتائج، جس میں ریبیز بیماری کے علامات اور اس کے سدباب کے متعلق لوگوں میں آگاہی نہ ہونا اس بیماری اور اس سے ہونے والی اموات کے اہم اسباب ہیں۔

انہوں نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے تمام شہروں میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ریبیز بیماری کے علامات اور اس کے سدباب کے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف سیمینار، ورک شاپس اور سیمپوزیم منعقد کیے جارہے ہیں۔ تاکہ لوگ ریبیز سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔

ڈاکٹر عامر اکرام نے مزید کہا کہ ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM