رپورٹ: ڈونلڈ ٹرمپ نے ’اٹھارہ برس تک ٹیکس نہیں دیا‘ | حالات حاضرہ | DW | 02.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رپورٹ: ڈونلڈ ٹرمپ نے ’اٹھارہ برس تک ٹیکس نہیں دیا‘

امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کے ہاتھ لگی بعض خفیہ دستاویزات کے مطابق ریپبلکن پارٹی کےصدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے امکاناً اٹھارہ برس تک فیڈرل انکم ٹیکس ادا نہیں کیا تھا۔

ریپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکسوں کا معاملہ امریکی سیاست میں انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ان کی حریف اور ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے ٹرمپ کے ساتھ ایک حالیہ ٹی وی مباحثے میں بھی ٹیکس کے موضوع کوکریدا تھا۔ اب ارب پتی سیاست دان ٹرمپ کے ٹیکس کا معاملہ مؤقر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اٹھا دیا ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے اب تک اپنے ٹیکس فارم جمع نہیں کروائے ہیں۔ کلنٹن یہ کام کر چکی ہیں۔

اخبار کو حاصل ہونے والی خفیہ دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے سن 1995 میں نو سو سولہ ملین ڈالر کے بزنس گھاٹے سے متعلق ٹیکس ریٹرن جمع کروائے تھے۔ اخبار کے قانونی مشیروں کے مطابق اس بڑی رقم کے نقصان کو وجہ بنا کر ٹرمپ نے اٹھارہ برس تک اس رقم کے متوازی ٹیکس ادا نہیں کیا۔

ٹرمپ کے مطابق وہ ٹیکس فارم اس لیے جمع نہیں کروا سکتے کہ اس وقت ملکی حکام ان کا ٹیکس آڈٹ کر رہے ہیں۔ تاہم ایسی کوئی نظیر یا قانونی قدغن نہیں ہےکہ آڈٹنگ کے دوران ٹیکس گوشوارے شایع نہیں کیے جا سکتے۔

ٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ریپبلکن امیدوار اس لیے ٹیکس گوشوارے شائع کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں کہ اس کے بعد ان کے امریکی صدر بننے کے امکانات معدوم یا کم زور ہو سکتے ہیں۔

ٹی وی مکالمے کے دوران ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ ٹرمپ اس لیے ٹیکس کے بارے میں معلومات مخفی رکھے ہوئے ہیں کہ اس سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ ’’اتنے امیر یا سخی نہیں ہیں جس کا وہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔‘‘

کلنٹن نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹیکس معلومات اس بات سے پردہ بھی اٹھا سکتی ہیں کہ ٹرمپ نے ’’فیڈرل ٹیکس ادا ہی نہیں کیا۔‘‘ اس کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹیکس کوائف ان کو ’’اسمارٹ‘‘ ثابت کریں گے۔

ٹرمپ کی ٹیم نے نیویارک ٹائمز پر الزام عائد کیا ہے کہ اخبار نے دستاویز ’’غیر قانونی‘‘ طریقے سے حاصل کی ہیں، تاہم اس نے رپورٹ کی تردید نہیں کی۔

امریکی صدارتی انتخابات آٹھ نومبر کو منعقد ہوں گے۔ اب سے انتخابات تک کوئی معمولی سی بھول چوک بھی کسی بھی امیدوار کے صدر بننے کے خواب کو چکنا چور کر سکتی ہے۔

DW.COM