1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روہنگیا کی نسل کشی کی گئی، اقوام متحدہ تفتیشی کمیشن

27 اگست 2018

اقوام متحدہ کے تفتیشی کمیشن نے رپورٹ کیا ہے کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا آبادی کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی اور جنگی جرائم میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/33p0n
Geflüchtete Rohingya in Bangladesch
تصویر: Reuters/Z. Bensemra

عالمی ادارے کے خصوصی ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بیان کیا کہ راکھین ریاست میں فوج نے ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو مجبور کیا کہ وہ علاقے سے نکل جائیں اور  اِس آپریشن کے دوران نسل کشی کے شواہد بھی ملے ہیں۔

 اس عالمی مشن کے مطابق راکھین کے علاوہ کاچین اور شان نامی ریاستوں میں بھی جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور یہ تمام اقدامات نسل کشی کے تحت قابل تعزیر ہیں۔

اس مناسبت سے سلامتی کونسل سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ عالمی فوجداری عدالت  کو اس رپورٹ پر کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کرے یا پھر خصوصی عدالت تشکیل دے کر ملوث افراد کو انصاف کٹہرے میں لایا جائے۔ تاکہ فوجداری تفتیش کی روشنی میں ایسے مبینہ ملزمان کو سزا سنائی جائے۔

Geflüchtete Rohingya überqueren die Grenze nach Bangladesch
میانمار سے دریائے ناف کے راستے بنگلہ دیش میں داخل ہونے والے روہنگیا مہاجرین کی ایک کشتیتصویر: Reuters/J. Silva

حقائق جاننے والے آزاد مشن کے مطابق میانمار کی فوج کے پاس خواتین کے ساتھ کی گئی جنسی زیادتی، بچوں کے استحصال اور پورے پورے دیہات جلانے کی کوئی وجہ موجود نہیں تھی۔ یہ تمام اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

خصوصی ماہرین نے جمع کیے گئے شواہد اور حقائق کی بنیاد پر رپورٹ میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے والے طاقتور سربراہ مِن آنگ ہلینگ اور پانچ اعلیٰ کمانڈروں کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کے تحت تادیبی و تعزیری کارروائی کرنے کی پرزور سفارش کی ہے۔

رپورٹ مرتب کرنے والے ماہرین نے واضح کیا کہ میانمار کی نوبل انعام یافتہ خاتون سیاستدان اور با اثر لیڈر آنگ سان سوچی بھی ان ظالمانہ اقدامات کے دوران اپنی اخلاقی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ نوبل انعام یافتہ خاتون رہنما کو دنیا کے مختلف حلقوں کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔

Bangladesch Rohingya in Flüchtlingscamp
روہنگیا مہاجرین نے بنگلہ دیش میں قائم کیمپوں میں کئی امور کی ذمہ داریاں سنبھال رکھی ہیںتصویر: DW/Jibon Ahmed

اگست سن 2017 میں میانمار کی فوج کے آپریشن کے نتیجے میں سات لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر اور مال و اسباب چھوڑتے ہوئے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے تھے۔ ان کو اب کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔

گزشتہ برس اگست میں جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی کئی نوعمر اور جوان روہنگیا لڑکیوں کو ناپسندیدہ حمل کا سامنا بھی رہا۔ بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان روہنگیا کی واپسی کی یاداشت طے تو پا چکی ہے لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد شروع نہیں ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کا خصوصی مشن انسانی حقوق کونسل نے مارچ سن 2017 میں قائم کیا تھا۔ اس کمیشن نے واضح کیا کہ جب کسی مجاز عدالت یا ادارے نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے افسوس ناک اقدامات کی تعزیری کارروائی شروع کی تو اسے اس مناسبت سے مزید ایسے افراد کے نام فراہم کیے جائیں گے، جو ان ظالمانہ افعال میں ملوث تھے۔

ع ح ⁄  ع الق ⁄  اے ایف پی