’روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل آئندہ دو ماہ میں شروع کر دیا جائے گا‘، بنگلہ دیش | مہاجرین کا بحران | DW | 25.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل آئندہ دو ماہ میں شروع کر دیا جائے گا‘، بنگلہ دیش

بنگلہ دیش اور میانمار نے لاکھوں روہنگیا مسلمان مہاجرین کی وطن واپسی کے سلسے میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے تعاون کرنے پراتفاق کر لیا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ عبدالحسن محمود علی

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں حکومتوں کے درمیان اس تناظر میں ایک معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ دونوں ممالک نے جمعرات کو ڈیل پر  دستخط کیے، جس کے تحت اب روہنگیا مہاجرین کی میانمار واپسی کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل آئندہ دو ماہ میں شروع کر دیا جائے گا۔

بنگلہ دیش سے روہنگیا مہاجرین کی میانمار واپسی، معاہدہ طے

روہنگیا بحران: ’اس سفاکی کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا‘

جرمنی کی طرف سے روہنگیا مہاجرین کے لیے اضافی مدد کا عہد

ویڈیو دیکھیے 03:12
Now live
03:12 منٹ

بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مہاجرین کے مصائب

دریں اثنا ڈھاکا میں بنگلہ دیشی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ مہاجرین کی باحفاطت اور باعزت واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔  انہوں نے کہا،  ’’وطن واپسی کے بعد روہنگیا مسلمانوں کو عارضی طور پر  ان کے تباہ کن گھروں کے قریب ترین علاقوں میں تعمیر کیے گئے خیموں میں منتقل کیا جائے گا‘‘۔

وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ’راکھین ریاست میں آتش زدہ گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔ جس کے لیے ہم نے میانمار حکومت کو چین اور بھارت کی مدد لینے کی تجویز پیش کی ہے۔

قبل ازیں یہ واضح نہیں ہے کہ بنگلہ دیش سے روہنگیا مہاجرین کی واپسی کے عمل میں اقوام متحدہ  کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ کا کردار کیا ہو گا۔ اس بے یقینی کی صورتحال میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا تھا کہ اقوامِ متحدہ روہنگیا مسلمانوں کی محفوظ طریقے سے وطن واپسی کے لیے آزاد معائنہ کار متعین کرے۔

 تاہم اب مہاجرین کی واپسی کے معاملے میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے کسی ممکنہ کردار سے متعلق بے یقینی ختم ہو گئی ہے۔

رواں سال 25 اگست سے میانمار میں شروع ہونے والے بحران کے نتجیے میں چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان پناہ کی تلاش میں بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار