روس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، امریکی الزام | حالات حاضرہ | DW | 15.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

روس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، امریکی الزام

 امریکا نے الزام عائد کیا ہے کہ روس نے واشنگٹن کی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے کروز میزائل نصب کیے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق اس طرح ماسکو ہتھیاروں میں تخفیف کے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ روس نے خفیہ طریقے سے زمین سے لانچ کیے جانے والے SSC-8 کروز میزائل نصب کر دیے ہیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ روس اس طرز کے میزائل کی تیاری اور تجربات کئی سالوں سے جاری رکھے ہوئے تھا، ’’امریکا کی طرف سے روس کو متنبہ بھی کیا گیا تھا کہ یہ تعیناتی 1987 ء میں طے پانے والے ایک معاہدے ’آئی این ایف‘ کی خلاف ورزی ہو گی‘‘۔ یہ معاہدہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عمل میں آیا تھا۔

اس اہلکار نے مزید بتایا کہ یہ خبر سب سے پہلے نیویارک ٹائمز میں شائع کی تھی،’’ہمیں علم ہے کہ یہ ایک پرانا مسئلہ ہے اور روس نے اوباما انتظامیہ کے دور سے ہی ’آئی این ایف‘ کی خلاف ورزیاں شروع کر رکھی تھیں۔ اب یہ معاملہ میزائل نظام کی تنصیب کا ہے اور یہ زیادہ بڑی خلاف ورزی ہے۔‘‘ تاہم جب اس خبر کے حوالے سے روسی وزارت دفاع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا،’’ امریکی انتظامیہ روس کی جانب سے اس خلاف ورزیوں کی جامع انداز میں جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ معاملہ امریکا اور اس کے ساتھی ممالک کے لیے کوئی خطرہ تو نہیں۔‘‘ 

امریکی دفتر خارجہ نے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے جولائی 2014ء کی اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ روسی فیڈریشن آئی این ایف معاہدے کی اس شق پر عمل درآمد نہیں کر رہی، جس میں پانچ سو سے لے کر پانچ ہزار کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل بنانے اور رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اخبار دی ٹائمز کے مطابق اس طرح اب روس کے پاس کروز میزائل کی دو بٹالین ہیں۔ ان میں سے ایک ملک کے جنوب مشرق علاقے کاپستن یار جبکہ دوسری کسی اور فوجی چھاؤنی میں نصب کیا گیا ہے۔

آج بدھ کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا ایک اجلاس ہو رہا ہے، جس میں امریکی وزیر دفاع جمیز میٹِس پہلی مرتبہ شرکت کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ روس کی جانب سے کروز میزائل کی مبینہ تنصیب کا مسئلے پر ترجیحی بنیادوں پر بات چیت ہو گی۔

 

اشتہار