’روسی نظریے کے خلاف‘، پچاس سے زائد کتابیں نذر آتش | معاشرہ | DW | 14.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’روسی نظریے کے خلاف‘، پچاس سے زائد کتابیں نذر آتش

روسی حکام نے 50 سے زائد کتابیں جلا دی ہیں جبکہ 500 سے زائد دیگر کتابوں کو کالج لائبریریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کتابوں میں ایسے خیالات موجود ہیں جو روسی نظریات کے خلاف ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جن کتابوں کو جلایا یا ہٹایا گیا ہے وہ امریکا میں قائم ایک تنظیم ’سوروز فنڈ‘ کی رقوم سے چھاپی گئی تھیں۔ اس فنڈ کو گزشتہ برس نومبر میں ’ناپسندیدہ ایجنٹ‘ یا ادارہ قرار دیتے ہوئے اسے روس میں کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کتابوں کو روس کے شمال مغربی علاقے کومی میں واقع دو کالجوں سے ہٹایا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کُتب کو بعد ازاں اسکول کے ایک احاطے میں جلا دیا گیا۔

کومی کے وزیر تعلیم کی طرف سے بدھ 13 جنوری کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ان کُتب کو ایک صدارتی نمائندے کی طرف سے جاری کردہ ایک تحریری درخواست پر ہٹایا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایسی کتابیں جو ’سوروز فنڈ‘ کی طرف سے فراہم کردہ رقوم سے شائع ہوئی ہیں، انہیں نصاب سے نکال دیا جائے۔ یہ خط ایک مقامی نیوز سائٹ کو فراہم کیا گیا ہے، جس نے اس بارے میں معلومات کی فراہمی کی درخواست کی تھی۔

جن کتابوں کو جلایا یا ہٹایا گیا ہے وہ امریکا میں قائم ایک تنظیم ’سوروز فنڈ‘ کی رقوم سے چھاپی گئی تھیں

جن کتابوں کو جلایا یا ہٹایا گیا ہے وہ امریکا میں قائم ایک تنظیم ’سوروز فنڈ‘ کی رقوم سے چھاپی گئی تھیں

روس کے وفاقی وزیر ثقافت نے آج جمعرات 14 جنوری کو رپورٹرز کو بتایا کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں علم نہیں ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کتابوں کا نذر آتش کیا جانا ایک غلطی ہو گی۔ روس کی تاس نیوز ایجنسی کے مطابق کلچر منسٹر ولادیمیر میڈنسکی کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’اصولی طور پر کتابیں نذر آتش کرنا یادگاروں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بہت برا لگتا ہے اور میرے خیال میں یہ ناخوشگوار تاریخ کی یاد دلاتی ہیں۔ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔‘‘

اشتہار