1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Krim Rauch über Luftwaffenstützpunkt Novofedorivka
تصویر: REUTERS

روسی فوجی ایئر بیس پر دھماکہ، ایک ہلاک متعدد زخمی

10 اگست 2022

ایک سینیئر یوکرینی افسر کا کہنا ہے کہ کریمیا میں روسی فوجی ایئر بیس پر ہونے والا دھماکہ تخریب کاروں کی کارستانی ہوسکتی ہے۔ کییف نے اس روسی مقبوضہ علاقے پر اپنی جانب سے حملے کی تردید کی ہے۔

https://p.dw.com/p/4FLXb

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مغربی ساحلی علاقے پر واقع ساکی ایئر بیس پر ہتھیاروں کے ایک ڈپو میں دھماکہ ہوا۔  یہ کریمیا میں واقع ہے جسے روس نے سن 2014 میں ضم کرلیا تھا اور فروری میں یوکرین کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کے لیے اس علاقے کا بھی استعمال کر رہا ہے۔

اس دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوگئے۔

روسی وزارت دفاع نے مزید بتایا کہ اس کی فوجی ایئر بیس پر کوئی حملہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔

خبررساں ایجنسی روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے تین بجے دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا اور کم از کم 12 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے غیر مصدقہ ویڈیوز میں دھماکے کی جگہ سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے جاسکتے ہیں۔

کریمیا کی محکمہ صحت نے بتایا کہ ایک شخص ہلاک ہوگیا اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ جائے واقعہ کے اطراف میں پانچ کلومیٹر کے دائرے کے علاقے کو سیل کردیا گیا ہے۔

Krim Rauch über Luftwaffenstützpunkt Novofedorivka
تصویر: REUTERS

کییف نے دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کی

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ایک مشیر میخائلو پوڈولیاک نے کہا کہ ان دھماکوں سے روس کی کمزوریوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔

 میخائلو پوڈولیاک نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ان دھماکوں میں کیف کے ملوث ہونے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا،"یقیناً ہم اس میں ملوث نہیں ہیں۔ ہمیں ایسا کرکے کیا حاصل ہوگا؟"

انہوں نے مزید کہا کہ "جو لوگ اس مقبوضہ علاقے میں رہ رہے ہیں انہیں معلوم ہے کہ یہ قبضہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔"

یوکرینی صدر زیلنسکی نے اپنے یومیہ خطاب میں ان دھماکوں کا براہ راست ذکر نہیں کیا تاہم کہا کہ یہ بات درست ہے کہ لوگوں کی نگاہیں کریمیا پر ہیں۔

 انہوں نے کریمیا کو یوکرین کو واپس لوٹانے کے حوالے سے کییف کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا،"ہم اسے کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ جب تک کریمیا قبضے میں ہے اس وقت تک بحر اسود محفوظ نہیں رہ سکتا۔"

روس کا ردعمل

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس فوجی ایئر بیس پر یوکرین نے حملہ کیا ہوتا تو یہ کریمیا جزیرہ نما پر کسی روسی فوجی اڈے پر اس کا پہلا بڑا حملہ قرار دیا جاتا اوراس سے موجودہ تصادم میں زبردست شدت پیدا ہو جانے کا خطرہ پیدا ہوجاتا۔

کریمیا کے سیواسٹوپول بندرگاہ پر ایک روسی بحری بیڑے پر گزشتہ ماہ چھوٹے پیمانے پر دھماکہ ہوا تھا۔ اس کے لیے یوکرینی تخریب کاروں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

ماسکو میں حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کریمیا پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا زبردست جواب دیا جائے گا جس میں کیف میں "فیصلہ ساز مراکز" پر حملے شامل ہیں۔

ساکی کے روسی فوجی ایئر بیس سے روسی جنگی جہاز مختصر نوٹس پر بھی یوکرین کے جنوبی علاقوں پر حملے کرسکتے ہیں۔ کریمیا کی سرحدیں یوکرین کے جنوبی علاقے خرسون سے ملتی ہیں، جس پر اب ماسکو کا قبضہ ہے۔

ج ا/ ص ز (روئٹرز،اے پی)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں

ملتے جلتے موضوعات

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Kabul Botschaftsgebäude von Pakistan

کابل میں پاکستانی سفارتی مشن پر حملہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں