روسی تاریخ کا بدترین ڈوپنگ اسکینڈل، لیکن مقدمہ ایک بھی نہیں | کھیل | DW | 08.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

روسی تاریخ کا بدترین ڈوپنگ اسکینڈل، لیکن مقدمہ ایک بھی نہیں

سینکڑوں کھلاڑیوں کی طرف سے اپنی کارکردگی بڑھانے کے لیے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے باعث روس کو اپنی تاریخ کے بدترین ڈوپنگ اسکینڈل کا سامنا ہے۔ لیکن کھیلوں کے روسی وزیر کے مطابق مقدمے کا سامنا کسی کو نہیں کرنا پڑے گا۔

Russland Vitaly Mutko Sportminister PK in Samara

ویٹالی مُٹکو

روسی دارالحکومت ماسکو سے جمعہ آٹھ اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق کھیلوں کے روسی وزیر ویٹالی مُٹکو نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ روس میں کھیلوں کے شعبے میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے باعث کسی بھی فرد کے خلاف مجرمانہ نوعیت کی فرد جرم عائد نہیں کی جائے گی۔

گزشتہ برس نومبر میں کھیلوں میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے خلاف سرگرم ادارے ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی یا واڈا کے ایک کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ روس میں نہ صرف بڑے منظم انداز میں اور ریاستی سرپرستی کے تحت ٹریک مقابلوں کے کھلاڑی وسیع تر ڈوپنگ کے مرتکب ہوتے رہے بلکہ ساتھ ہی ایک باقاعدہ نظام کے تحت اس ڈوپنگ کو چھپایا بھی جاتا رہا۔

کھیلوں کے ٹریک مقابلوں کی ایک روسی تنظیم کے ایک سابق سربراہ پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے ایک میراتھن میں حصہ لینے والے ایک کھلاڑی سے ساڑھے چار لاکھ یورو یا نصف ملین ڈالر کے برابر رقم بھی لی تھی۔

بعد ازاں روسی سپورٹس فیڈریشن کے اس اعلیٰ عہدیدار پر دنیا بھر میں ٹریک اور فیلڈ مقابلوں سے کسی بھی قسم کا کوئی بھی تعلق رکھنے پر عمر بھر کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔

Russland Putin und Mutko

ویٹالی مُٹکو روسی صدر پوٹن کے ساتھ

اب اس بارے میں کھیلوں کے روسی وزیر ویٹالی مُٹکو نے روس ہی کی ایک بڑی سپورٹس ویب سائٹ ’سپورٹ فیکٹ‘ کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ماسکو میں ریاستی دفتر استغاثہ کے ماہرین نے واڈا کے کمیشن کی رپورٹ کا ’بڑی احتیاط سے مفصل جائزہ لیا ہے اور انہیں کوئی ایک بھی ایسی حقیقت نہیں ملی، جسے قانونی طور پر ثابت کیا جا سکے اور جس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا کوئی مقدمہ شروع کیا جا سکے‘۔

قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی WADA کے اسی تفتیشی کمیشن کی رپورٹ کا نتیجہ تھا کہ روسی کھلاڑیوں کی اولمپک مقابلوں سمیت تمام بین الاقوامی ٹریک اور فیلڈ مقابلوں میں شرکت معطل کر دی گئی تھی۔ روس کے خلاف یہ فیصلہ ابھی تک مؤثر ہے۔

DW.COM