رواں برس کیمیا کا نوبل انعام تین سائنسدانوں کے نام | سائنس اور ماحول | DW | 09.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

رواں برس کیمیا کا نوبل انعام تین سائنسدانوں کے نام

سویڈن کی نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے کیمسٹری کے نوبل انعام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ انعام ان تینوں سائنسدانوں کو لیتھیم آئن بیٹری کی دریافت کے لیے کی جانے والی کاوشوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

نوبل انعام دینے والی رائل سویڈش اکیڈمی برائے سائنسز کے مطابق رواں برس کیمیا کا پرائز جن سائنسدانوں کو دیا گیا ہے، اُن  میں ایک جرمن شہر ژینا میں پیدا ہونے والے امریکی سائنسدان جان بی گوڈینوف، دوسرے برطانوی ایم اسٹینلے ویٹینگھم اور جاپانی کیمیا دان اکیرا یوشینو شامل ہیں۔

اکیڈمی کے بیان میں کہا گیا کہ لیتھیم آئن بیٹری کی دریافت سے انسانی زندگی میں انقلاب کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ اس بیان کے مطابق جدید دور کے کئی ضروری استعمال کی اشیاء میں استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریاں یقینی طور پر انتہائی کم وزن ہیں اور یہ ری چارج ایبل (دوبارہ قابل استعمال) ہونے کے ساتھ ساتھ بہت طاقت بھی رکھتی ہیں۔

Schweden Stockholm Nobelpreis Chemie 2019 (Nobel Media/Niklas Elmehed)

رائل سویڈش اکیڈمی کی جانب سے کیمیا کا نوبل انعام حاصل کرنے والے تینوں سائنسدانوں کے خاکے

اکیڈمی کے بیان میں واضح کیا گیا کہ لیتھیم بیٹریاں اب موبائل فون کے علاوہ لیپ ٹاپ اور بجلی سے چلنے والی موٹر گاڑیوں میں استعمال کی جا رہی ہیں۔ اکیڈمی نے کہا کہ نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں نے بغیر تار (لا سلکی) اور زمین سے حاصل ہونے والے ایندھن کو استعمال نہ کرنے والی معاشرت کی بنیاد رکھی ہے۔

جان بی گوڈینوف نوبل انعام حاصل کرنے والے سب سے طویل عمر کے سائنسدان بن گئے ہیں۔ اُن کی عمر ستانوے برس ہے۔ وہ بنیادی طور پر سالڈ اسٹیٹ فزکس کے ماہر ہیں لیکن کیمیا کے شعبے میں انعام حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ امریکی ریاست ٹیکساس کی آسٹن یونیورسٹی میں مکینیکل انجینیئرنگ اور میٹیریل سائنسز کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

دوسرے سائنسدان برطانوی نژاد امریکی ایم اسٹینلے ویٹینگھم ہیں۔ یہ اٹھہتر سالہ کیمیا دان برطانیہ کی برائٹن یونیورسٹی اور نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کیمیا میں نوبل پرائز حاصل کرنے والے تیسرے اکہتر سالہ جاپانی کیمیا دان ہیں۔ ان کا تعلق نوگویو شہر کی میجو یونیورسٹی سے ہے۔

Symbolbild Nobelpreis | Medaille mit dem Konterfei von Alfred Nobel (picture-alliance/dpa/K. Nietfeld)

نوبل پرائز کے ساتھ میڈل، سرٹیفیکیٹ اور نو لاکھ اٹھارہ ہزار ڈالر بھی دیے جاتے ہیں

اب صرف امن، ادب اور اقتصادیات کے نوبل انعامات باقی رہ گئے ہیں۔ ادب کا نوبل انعام دس اکتوبر کو اور امن  کا یہ انعام حاصل کرنے والے کا نام گیارہ اکتوبر کو بتایا جائے گا۔ عام تاثر ہے کہ سویڈن کے کلائمیٹ چینج کی متحرک کارکن اور'فرائیڈیز فار فیوچر‘ تحریک کی بانی ٹین ایجر گریٹا تھنبرگ کو یہ انعام دیا جا سکتا ہے۔ کئی حلقوں کے مطابق ایتھوپیا کے امن پسند وزیراعظم ابی احمد بھی فیورٹ ہیں۔

  اکنامکس یا اقتصادیات کا نوبل انعام الفریڈ نوبل کی یاد میں سویڈش مرکزی بینک (Sveriges Riksbank ) نے جاری کیا ہے۔ اس کا اعلان رواں ماہ کی چودہ تاریخ کو ہو گا۔ ان انعامات کی تقسیم رواں برس دس دسمبر کو منعقد ہونے والی مختلف تقریبات میں ہو گی۔ نوبل پرائز کے ساتھ میڈل، سرٹیفیکیٹ اور نو لاکھ اٹھارہ ہزار ڈالر بھی دیے جاتے ہیں۔

ع ح ⁄ ا ا (ڈی پی اے، روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 02:58

سائنس کے شعبے میں خواتین کا تاریخی کردار

DW.COM

Audios and videos on the topic