رواں برس پناہ کی کم درخواستیں موصول ہوئیں، جرمن وزارت داخلہ | مہاجرین کا بحران | DW | 17.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

رواں برس پناہ کی کم درخواستیں موصول ہوئیں، جرمن وزارت داخلہ

جرمن وزارت داخلہ کو توقع ہے کہ رواں برس کے اختتام تک پناہ کی متلاشیوں کی طرف سے دائر کردہ نئی درخواستوں کی تعداد تقریبا ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار ہو جائے گی۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں پناہ کی ان درخواستوں کی تعداد کم ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کی طرف سے دائر کی جانے والی پناہ کی درخواستوں کی تعداد قریب ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار ہو جائے گی۔ جرمن وزارت داخلہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ سن دو ہزار سترہ کے مقابلے میں رواں برس کے دوران جمع کرائی جانے والی ان درخواستوں کی تعداد کم ہو گی۔

جرمن روزنامہ بلڈ نے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سن دو ہزار سترہ کے دوران جرمنی میں مجموعی طور پر جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستوں کی تعداد ایک لاکھ اٹھانوے ہزار تین سو سترہ تھی۔ ان میں سے ایسے درجنوں مہاجرین کو ملک بدر بھی کیا جا چکا ہے، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو گئی تھیں۔ واپس اپنے وطن روانہ کیے جانے والے ان مہاجرین میں افغان اور پاکستانی باشندے بھی شامل تھے۔

جرمنی کی وسیع تر مخلوط حکومت میں اتفاق رائے ہوا تھا کہ جرمنی آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی سالانہ تعداد ایک لاکھ اسّی ہزار تا دو لاکھ بیس ہزار ہو گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ حکومتی فیصلہ آئندہ برس بھی تبدیل نہیں ہو گا۔۔

یاد رہے کہ مہاجرین کے بحران کی وجہ سے جرمن حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور اس وجہ سے انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی عوامی مقبولیت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

جرمنی میں کثیر الاشاعتی روزنامے بلڈ کے مطابق سن دو ہزار اٹھارہ کے دوران پناہ کی متلاشی رجسٹر افراد میں تیس ہزار کے قریب بچے بھی ہیں، جن کی عمریں ایک برس سے کم ہیں۔ بلٹ کے مطابق ان بچوں کی پیدائش جرمنی میں ہی ہوئی ہے۔ جرمن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں یورپ کے اقتصادی طور پر اس سب سے مضبوط ملک میں 1.8 ملین سے زائد افراد نے پناہ کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔

ع ب / ع ا / خبر رساں ادارے

DW.COM