رواں برس افغان سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں واضح اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 30.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

رواں برس افغان سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں واضح اضافہ

ایک تازہ امریکی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 2015 کے مقابلے میں اس برس پرتشدد واقعات میں ملکی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ اس پیشرفت کو اس ملک میں قیام امن کی کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اتوار تیس اکتوبر کے روز افغان حکام کے حوالے سے بتایا کہ رواں برس جنوری سے انیس اگست تک مختلف حملوں میں پانچ ہزار پانچ سو تئیس سکیورٹی اہلکار مارے جا چکے تھے۔ امریکی حکومتی واچ ڈاگ ’اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے بحالی افغانستان‘ SIGAR کی تازہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران نو ہزار چھ سو پینسٹھ افغان سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

نا اہل قیادت افغان فوجیوں کی ہلاکت کا سبب ہے، امریکی جنرل

امریکا کی طویل ترین جنگ، افغانستان میں کون سے مواقع ضائع ہوئے

افغانستان کی تعمیر نو اور بین الاقوامی ڈونرز کانفرس

سن دو ہزار پندرہ کے دوران افغانستان میں طالبان اور دیگر انتہا پسند گروہوں کی طرف سے کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں میں تقریباﹰ پانچ ہزار افغان سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے جبکہ پندرہ ہزار کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ مغربی دفاع اتحاد نیٹو کے جنگی مشن کے خاتمے کے بعد افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں مقامی دستے سنبھال چکے ہیں جبکہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجی صرف مشاورت اور تربیت فراہم کر رہے ہیں۔

سن دو ہزار سولہ کے دوران طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی طرف سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ خدشات ہیں کہ اس برس کے دوران ہلاک ہونے والے مقامی فوجیوں اور سپاہیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں مسلح باغی گروہ ملکی قومی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔

افغانستان میں تعینات نیٹو کے کمانڈر امریکی فوجی جنرل جان نکلسن نے ایک ہفتہ قبل ہی خبردار کیا تھا کہ افغانستان کے محکمہ پولیس اور فوجی یونٹوں میں قیادت کی ناکامی دراصل سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔  SIGAR کی اس رپورٹ میں البتہ کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد کے حوصلے بلند ہیں اور وہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی مراعات سے مطمئن ہیں۔

Afghanistan Anschlag in Kabul (Reuters/M. Ismail)

امریکی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ترقی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹوں میں باغیوں کے حملوں کے علاوہ بدعنوانی، استعداد کاری اور فنڈز کی کمی اور غیر یقینی صورتحال بھی شامل ہیں

دوسری طرف اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سکیورٹی کی مخدوش صورتحال اور سماجی روایات کی وجہ سے خواتین کے لیے خطرات برقرار ہیں، جس کے باعث وہ عوامی سطح پر اپنا کردار نبھانے سے قاصر ہیں۔ اس وقت افغان حکومت کو ملک کے صرف دو تہائی حصے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، جس کی آبادی تقریباﹰ تیس ملین بنتی ہے۔ افغانستان کے دس فیصد علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہے جبکہ دیگر علاقوں میں عسکریت پسندوں اور ملکی سکیورٹی فورسز کے مابین لڑائی جاری ہے۔

امریکی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ترقی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹوں میں باغیوں کے حملوں کے علاوہ بدعنوانی، استعداد کاری اور فنڈز کی کمی اور غیر یقینی صورتحال بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ کابل حکومت کی طرف سے ٹھوس اقدامات اور اصلاحات کے بغیر افغانستان میں استحکام ممکن نہیں۔ سن دو ہزار دو سے اب تک یو ایس ایڈ اور امریکی محکمہ دفاع افغانستان کی تعمیر نو اور بحالی کی خاطر  تقریباﹰ دو اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔

DW.COM

اشتہار