راولپنڈی، پولیس کی کارروائی میں چھ افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 15.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

راولپنڈی، پولیس کی کارروائی میں چھ افراد ہلاک

راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کے ایک محمکے اور پولیس کی مشترکہ کارروائی میں پانچ افراد کو ہلاک جبکہ چار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں پولیس کا سب انسپکٹر ہلاک جبکہ دو اہلکار زخمی بھی ہو گئے۔

پاکستانی دارلحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کے محمکے (سی ٹی ڈی) اور پولیس کی مشترکہ کارروائی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کی گئی۔ بتایا یا ہے کہ پولیس نے پاکستانی فوج کے قاسم ائیر بیس کے قریبی علاقے پنڈ جُوڑیاں کے علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ مارا، جہاں پر پولیس کو ملنے والی خفیہ اطلاع کے مطابق مشتبہ شدت پسند موجود تھے۔

DW.COM

مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف کی گئی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مصطفٰی عرف عمران اس کی اہلیہ ملکہ، تین سالہ بیٹی سویرا، بیٹا اذان اور دو سالہ بیٹا محمد بھی شامل ہیں۔ شدت پسندوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ دو ہزار چودہ سے ایک مکان میں کرائے پر رہ رہے تھے جو کہ ایک مقامی امام مسجد کا ہے۔ یہ خاندان کراچی کے علاقے کورنگی سے یہاں منتقل ہوا تھا جبکہ ان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے ہجیرہ سے تھا۔

فائرنگ سے ایلیٹ فورس کا سب انسپکٹر ارشاد ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق گھر سے ایک خاتون سمیت چار مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے، جن کی شناخت عارف مصطفٰی، ذوالقرنین مصطفٰی، قیصر مصطفٰی اور سمیرا کے نام سے کی گئی ہے۔

ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی وصال فخر سلطان راجہ کے مطابق پنڈی شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا گیا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’پولیس کو ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ایک گھر میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث لوگ موجود ہیں، جس پر پولیس نے جب چھاپہ مارا تو گھر کے اندر سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے آپریشن مکمل کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے، جس کے بعد ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

پولیس حکام کے مطابق ایلیٹ فورسز اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا تو ایک گھر سے ان پر فائرنگ کی گئی۔ دوسری جانب پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فوج اور رینجرز کے اہلکاروں کے ہمراہ گھر گھر تلاشی بھی کی۔ پولیس کے مطابق پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کے قتل کے سلسلے میں گزشتہ ماہ گرفتارکیے گئے ملزم قاسم معاویہ کی نشاندہی پر یہ کارروائی کی گئی ۔

محمکہ انسداد دہشت گردی کے مطابق قاسم معاویہ کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی کے قاری سہیل گروپ سے ہے اور اسی گروپ نے خانزادہ کی ٹارگٹ کلنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ ہی سی ٹی ڈی نے قاسم معاویہ کی گرفتاری کے بعد شجاع خانزادہ پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف لاہور کے مضافاتی علاقے شیرا کوٹ میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر چار مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

Shuja Khanzada

شجاع خانزادہ کا قتل ان کے ہی بنائے ہوئے انسداددہشت گردی کے محکمے نے ایک چیلنج کے طور پر لیا ہوا ہے

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے سربراہ عامر رانا کا کہنا ہے کہ شجاع خانزادہ کا قتل ان کے ہی بنائے ہوئے انسداددہشت گردی کے محکمے نے ایک چیلنج کے طور پر لیا ہوا ہے۔ عامر رانا نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’خانزدہ کے قتل کے بعد سے سی ٹی ڈی کا محکمہ حرکت میں ہے اور اس سلسلے میں مخلتف جگہوں پر چھاپے اسی سلسلے کی کڑی ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ سی ٹی ڈی کے ہاتھ میں کوئی ایسا سرا لگا ہے جو اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے مدد گار ہے۔‘‘

عامر رانا نے کہا کہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس سلسے میں ہونے والی کارروائیوں میں شفافیت لائی جائے ۔ کاروائیوں کے دوران مارے جانیے والوں کی درست شناخت ظاہر کی جائے اور حقائق تک میڈیا کی رسائی کو بھی یقینی بنایا جائے۔