رام سیتو: حقیقت یا فسانہ | معاشرہ | DW | 14.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

رام سیتو: حقیقت یا فسانہ

ایک امریکی ٹی وی کی طرف سے بھارت اور سری لنکا کے درمیان واقع رام سیتو یا ایڈم برج کو انسانوں کا تعمیر کردہ پُل قرار دینے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ اب بھگوان رام کے وجود پر کوئی شبہ نہیں رہ گیا۔

ماہرین ارضیات اور عقلیت پسندوں کا تاہم کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں اور سائنس دانوں کے ذریعے تحقیق اور ٹھوس ثبوت کے بغیر کچھ بھی کہنا قبل از وقت اور بے معنی ہے۔

جنوبی بھارت میں رامیشورم کے نزدیک پامبن جزیرے اور سری لنکا کے منار جزیرے کے درمیان واقع پچاس کلومیٹر طویل پل نما یہ ڈھانچہ سمندر میں واقع ہے۔ ہندووں کے ایک طبقے اور بالخصوص قوم پرست ہندو تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کا دعوی ہے کہ یہ وہی رام سیتو (پُل) ہے، جس کا ذکر ان کی متبرک کتاب رامائن میں ہے۔ رامائن کے مطابق، ’’جب ہندووں کے بھگوان رام کی اہلیہ سیتا کو لنکا کے راجہ راون نے اغوا کر لیا تو وہ اپنی بیوی کو رہا کرانے کے لئے اسی پل کے ذریعے سری لنکا گئے تھے۔ رام نے ابتدا میں سمندروں کے دیوتا ساگر سے لنکا جانے کے لئے راستہ دینے کی درخواست کی لیکن جب ساگر نے ان کی درخواست مسترد کردی تو رام نے اپنا تیر چلا کر سمندر کو خشک کرنے کی دھمکی دی۔ ساگر رام کی بات مان گئے اور بتایا کہ نل نامی ایک ایسا شخص ہے، جو پل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رام نے اپنے بندروں کی فوج کے ساتھ مل کر پل بنایا، لنکا گئے، راون کے ساتھ جنگ کی، اسے ہلاک کر دیا اور اپنی بیوی سیتا کو رہا کرا کر اجودھیا لے آئے۔‘‘

ہندو اساطیر میں دودھ صرف پینے کی چیز نہیں
ڈسکوری کمیونیکیشن کی ملکیت والے امریکی سائنس چینل نے پچھلے دنوں اپنے ایک پروگرام ’وہاٹ آن ارتھ ‘ کا ایک کلپ چلایا، جس میں بتایا گیا کہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصویروں سے پتا چلتا ہے کہ ایڈم برج یا رام سیتو انسانوں کا بنایا ہوا ہے، جو غالباً انتہائی طاقت ور تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ پل چونے کے پتھر کا ہے ، ’’اس کی چٹانیں سات ہزار سال پرانی ہیں جب کہ اس کے اوپر ریت کی جو تہہ جمع ہے وہ چار ہزار سال قدیم ہے۔‘‘ حالانکہ رامائن کے بیان کے مطابق رام سیتو کی تعمیر سترہ لاکھ پچاس ہزار سال قبل ہوئی تھی۔
ماضی میں بھی یہ دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ رام سیتو انسانوں کا تیار کردہ ہے۔ چند سال قبل کچھ لوگوں نے یہ دعوی کیا تھا کہ ناسا نے 1.75ملین سال قدیم انسانوں کے تعمیر کردہ ایک پل کی جو تصویر جاری کی تھی، یہ وہی پل ہے جسے رام سیتو کہا جاتا ہے۔ اب جب کہ ایک سائنسی چینل نے پھر اسی طرح کا دعوی کیا ہے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کانگریس پارٹی پر سخت تنقید شروع کر دی ہے۔
دراصل 2005ء میں اس وقت کانگریس کی قیادت والی حکومت نے مذکورہ پل نما ڈھانچے کو توڑ کر بھار ت اور سری لنکا کے درمیان جہاز رانی کا ایک پروجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کانگریس نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ رام سیتو کوئی متبرک جگہ ہے۔

جہاں اردو میں رامائن پڑھی جاتی ہے

تاہم اس وقت اپوزیشن بی جے پی نے اس کی سخت مخالفت کی تھی اور دیگر مختلف حلقوں کے دباو میں آکر اسے اپنا حلف نامہ واپس لینا پڑا تھا۔ اس وقت کے وزیر قانون نے کہا تھا،’’بھگوان رام بھارتی کلچر اور اخلاقیات کا اٹوٹ حصہ ہیں اور اس موضوع پر عدالت میں بحث نہیں کی جا سکتی، جس طرح ہمالیہ ہمالیہ ہے، گنگا گنگا ہے، رام رام ہیں۔ یہ عقیدے کا سوال ہے۔ عقیدے کی بنیاد پر کسی وجود کو ثابت کرنے کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ۔‘‘
امریکی سائنس چینل کی رپورٹ کے بعد بی جے پی کے رہنماوں نے، جس جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل دید ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ جن لوگوں نے حلف نامہ داخل کیا تھا انہیں اب اس کی وضاحت کرنی چاہئے۔ ازن کے مطابق تحقیق نے بی جے پی کے دعوے کی تصدیق کر دی ہے۔ ریلوے کے وزیر پیوش گوئل کا کہنا تھا، ’’اب رام سیتو کے سلسلے میں بحث ہمیشہ کے لئے ختم سمجھی جائے۔ ہمیں رام سیتو کا احترام کرنا چاہیے اور اسے کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔‘‘ اطلاعات و نشریات کی وزیر اسمرتی ایرانی اور بی جے پی کے سینئر لیڈر سبرامنیم سوامی نے ٹوئٹ کرطکے قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دعوے کی حقیقت کی ایک بار پھر تصدیق ہوگئی ہے۔

گاندھی کا قاتل، انتہا پسند ہندوؤں کا ہیرو
تاہم عقلیت پسندی کے موضوعات پر مضامین لکھنے والی سرنگیا کور نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ ’بی جے پی والے اتنے اتاولے کیوں ہو رہے ہیں، جب کہ چینل نے ابھی پورا پروگرام نشر بھی نہیں کیا ہے۔ یہ پروگرام 19دسمبر کو نشر کیا جانا ہے اور ایسے پرومو ناظرین کو اپنی طرف راغب کرنے کا حربہ بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے کم از کم چند دن انتظار تو کر لینا چاہئے تھا۔‘

 سرنگیا کور کہتی ہیں کہ سائنسی تحقیق کے مطابق انسانوں کا وجود زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ اسی ہزار سال قبل پہلے ملتا ہے، ایسے میں یہ کیوں کر ممکن ہے کہ انسانوں نے 1.75ملین سال قبل کوئی پل بنا لیا ہوگا۔
سرکاری ادارے کونسل فار سائنٹفک اور انڈسٹریل ریسرچ سے وابستہ ماہر ارضیات ڈاکٹر راجیو نگم رام سیتو کی تعمیر کے سلسلے میں امریکی سائنس دانوں کے دعووں سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رام سیتو کے بار ے میں ان سائنس دانوں نے ٹی وی چینل پر، جو دعوی کیا ہے، اس پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے اوریہ کہنا مشکل ہے کہ پل کتنا پرانا ہے۔

DW.COM

اشتہار