دہلی کی سیاست می‍ں افطار پارٹیاں، جانے کہاں گئے وہ دن | دستک | DW | 20.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

دہلی کی سیاست می‍ں افطار پارٹیاں، جانے کہاں گئے وہ دن

مقدس مہینہ رمضان شروع ہو چکا ہے، جس میں مسلمان بھوکے پیاسے دن گزار کر ایک طرح سے اپنا سالانہ احتساب کرتے ہیں۔ مگر اس ماہ کی شامیں، جو افطاری یا روزہ کھولنے سے شروع ہوتی ہیں، خاصی روشن اور ولولہ انگیز ہوتی ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ اس ماہ کے آتے ہی بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سیاسی بیٹ کور کرنے والے صحافیوں کی تو جیسے عید آ جاتی تھی۔ ہر روز کسی نہ کسی سیاستدان، وزیر یا سیاسی پارٹی کی طرف سے افطار پارٹی کا اہتمام، نیوز رومز میں ان کو کور کرنے کے لئے باضابط بیٹ لگتی تھی۔ صدر مملکت، وزیر اعظم اور کانگریس پارٹی کی طرف سے منعقدہ افطار پارٹی کے دعوت نامہ کے حصول کے لئے تو ایسی تگ و دو اور لابی کرنی پڑتی تھی، جیسے کوئی عہدہ یا اسمبلی یا پارلیمنٹ کی ممبری حاصل کرنی ہوتی تھی۔

 مگر  2014 میں مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے برسراقتدار میں آنے کے بعد ان پارٹیوں کی رونق تو ویسے ہی پھیکی پڑ گئی تھی، کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پچھلے سال کی طرح اس بار بھی ان پارٹیوں کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آرہا۔ افطار پارٹی کے بلاوے کے لئے آنکھیں ترس گئی ہیں۔ افطاری اور ڈنر کے درمیان راشٹرپتی بھون یا وزیر اعظم ہاؤس یا کسی اور وزیر یا سیاسی پارٹی کے بنگلہ کے لان میں یا کسی عالیشان ہوٹل کے ہال کے کونے میں روزہ دار، جس طرح ایک ساتھ نماز کا اہتمام کر کے ایک ڈسپلن کے ساتھ سر بسجود ہوتے تھے، وہ سماں بھی قابل دید ہوتا تھا۔

سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی افطار پارٹیوں میں نامور باورچیوں کی طرف سے تیار کردہ بریانی، مرغ مسلم، قورمہ اور دیگر لوازمات سے پیٹ پوجا کا موقع تو ملتا ہی تھا مگر یہ سیاسی گلیاروں میں چل رہی سرگرمیوں کی سن گن لینے کا ایک اہم ذریعہ ہوتی تھیں۔ چونکہ 1989ء سے 2014ء تک بھارت میں مخلوط حکومتیں برسراقتدار ہوتی تھیں، افطار پارٹیاں سیاسی گپ شپ اور ایک دوسرے کو منانے اور خاموش پیغامات پہنچانے کا بھی ایک ذریعہ ہوتی تھیں۔ سیاسی رپورٹروں کے لئے یہ دیکھنا لازم ہوتا تھا کہ کس کس سیاستدان نے پارٹی میں شرکت کی اور اگر کوئی آیا نہیں ہے، تو معلوم کرنا ہوتا تھا کہ اس کو مدعو کیا گیا تھا کہ نہیں۔

 اگر دعوت کے بعد بھی شریک نہیں ہوا ہے، تو نتیجہ اخذ کیا جاتا تھا کہ مذکورہ سیاستدان حکومت سے ناراض ہے اور حکومت تو بس اب چند دنوں کی مہمان ہے۔ کسی سوال کے جواب میں کسی  وقت کوئی اہم اعلان بھی افطار پارٹی کے دوران ہوتا تھا۔ چونکہ افطار پارٹیوں کی سیٹنگ ایک طرح سے غیر رسمی ہوتی تھی، اسی لئے سیاستدانوں کا رویہ بھی روایتی پریس کانفرنسوں سے ہٹ کر دوستانہ ہوتا تھا۔ صحافیوں اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ گھل مل کر ہنسی مذاق کا دور چلتا تھا۔ کسی بھی پولیٹکل رپورٹر یا نئے منتخب شدہ ممبر پارلیمنٹ کے لئے دہلی کے سیاسی گلیاروں میں افطار پارٹیاں نیٹ ورکنگ کا نایاب موقع فراہم کرتی تھیں۔ 

مجھے یاد ہے ایک دہائی قبل پہلی بار مجھے کانگریس پارٹی کی طرف سے دی گئی۔ مجھے افطار پارٹی کو کور کرنے کے لئے بھیجا گیا۔ ان دنوں کانگریس حکومت میں تھی اور اس کی صدر سونیا گاندھی سے ملنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ دہلی شہر میں بھی ان دنوں کانگریس پارٹی کی ہی حکومت تھی۔ دہلی کے ایک عالیشان ہوٹل میں اس پارٹی کی چکا چوند نے تو مجھے حیرت زدہ کر دیا۔ سونیا گاندھی اور ان کے فرزند راہول گاندھی اپنی پلیٹ لے کر ہر میز پر باری باری بیٹھ کر صحافیوں اور دیگر افراد کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے تھے اور ہر کسی کے سوالات کے جوابات بھی دے رہے تھے اور ملک بھر سے آئے اپنے پارٹی لیڈروں کے مشوروں کو بھی نوٹ کرتے جاتے تھے۔ عام حالات میں ان تک رسائی ہی ممکن نہیں تھی۔

دہلی میں ان سیاسی افطار پارٹیوں کو شروع کرنے کا سہرا 70ء اور 80 ء کی دہائیوں کے قد آور لیڈر ہیم وتی نندن بہوگنا کے سر جاتا ہے۔ بہوگنا مسلم سماج کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو مین اسٹریم کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔ ان کا یہ فارمولہ اس قدر کامیاب رہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں بشمول بی جے پی نے ابھی اس کو اپنایا۔

 بی جے پی نے تو 2014ء میں اقتدار میں آنے کے بعد ہی اس  سے کنارہ کشی کی۔ اندرا گاندھی سے لے کر من موہن سنگھ تک بشمول اٹل بہاری واجپائی سبھی وزرائے اعظم اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ہر سال افطار پارٹیوں کا اہتمام کرتے تھے۔ اسی طرح پرنب مکھرجی کے عہدہ صدارت تک بھی راشٹر پتی بھون میں ہر سال افطار پارٹیاں ہوتی تھیں، جن میں مسلم ممالک کے سفراء بھی شامل ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی امریکی، برطانوی، پاکستانی اور دیگر سفارت خانے بھی افطار پارٹیوں کا انتظام کرتے تھے، جو سفارتی بیٹ کور کرنے والے صحافیوں کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوتی تھی۔

گو کہ بی جے پی نے افطار پارٹیوں کے کلچر کو بند کرا دیا مگر ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کی شاخ راشٹریہ مسلم منچ ابھی بھی ہر سال افطار پارٹی منعقد کرتی ہے، جس کی صدارت آر ایس ایس کے لیڈر اندریش کمار کرتے ہیں۔ بی جے پی کے لیڈر شاہنواز حسین کی افطار پارٹی دہلی میں بڑی مشہور ہوتی تھی مگر 2014ء کے بعد انہوں نے بھی اس کو موقوف کر دیا۔ پرنب مکھرجی نے گو کہ 2017ء تک اپنے عہدہ صدارت کی مدت تک افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا مگر وزیر اعظم نے پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کر ان میں شرکت نہیں کی۔ حکومت کی طرف سے عموماً راج ناتھ سنگھ علامتی شرکت کرتے تھے مگر سفارت کاروں وغیرہ کی آمد اور ان سے علیک سلیک کے بعد فوراً ہی روزہ کھولنے کا انتظار کیے بغیر ہی لوٹ جاتے تھے۔ ورنہ لکھنو میں وہ خود بھی افطار پارٹیوں کا خاصا اہتمام کرتے تھے۔ مودی حکومت کے برسر اقتدار میں آنے کے بعد وزیروں اور بی جے پی کے لیڈروں نے اہتمام کرنا اور پارٹیوں میں آنا بند کر دیا۔ انہیں خوف لاحق ہو گیا کہ ایسی محفلوں میں شرکت سے ان کے تشخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور پارٹی میں ان کا پروفائل کم ہونے کے امکانات ہیں۔

کئی افراد افطار پارٹیوں کو وقت اور پیسے کا زیاں سمجھتے ہیں مگر میرے خیال میں بھارت جیسے کثیر الجہتی ملک میں یہ فرقوں اور مذاہب کے درمیان میل جول، ایک دوسر ے کو جاننے اور مکالمہ کا ذریعہ تھیں۔ میں جس میڈیا ہاؤس میں کام کرتی تھی، وہاں نیوز روم میں بس ایک یا دو ہی مسلمان تھے مگر ہم افطار کا بھر پور اہتمام کرتے تھے۔ پورے ماہ گویا ہر شام ایک عید کی طرح ہوتی تھی۔

 ہمارے ایک سینئرایڈیٹر پارسا وینکٹیشور راو تو دن میں پرانی دہلی جا کر وہاں سے انواع قسم کے کھانے لاکر اپنی جیب سے افطاری کا انتظام کرواتے تھے۔ اکثر افطاری کی میزبانی کرنے کی ڈیوٹی لگتی تھی، جو باری باری ہنسی خوشی انجام دی جاتی تھی۔ کئی ساتھی، جو شام کو آفس آنے سے گریز کرتے تھے، رمضان کے دنوں میں وہ بھی بلا ناغہ حاضر ہوتے تھے۔ گو کہ دفتر کی افطاری سیاسی افطاریوں کی طرح شاہانہ نہیں ہوتی تھیں مگر اس میں شامل ہونا اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ روزہ کھولنے کی خوشی کی یادیں ہمیشہ ہی ذہن میں پیوست رہیں گی۔ میں چونکہ جھاڑکھنڈ کے شہر رانچی سے دہلی شفٹ ہو گئی تھی، مجھے افطار کے اس قدر اہتمام کا پتہ نہیں تھا۔ رانچی میں مسلمان چھوٹے تاجروں اور دکانداروں پر مشتمل تھے اور افطاری کے وقت وہ دکانوں کے شٹر گراتے تھے اور روزہ کھول کر پھر دوبارہ کاروبار شروع کرتے تھے۔

بھارت اس وقت کورونا وبا کی بدترین گرفت میں ہے۔ اس سال تو شاید ہی کسی افطار پارٹی میں جانے کی سعادت نصیب ہو۔ امید ہے کہ یہ رمضان ہم سب کے لئے سلامتی لے کر آئے اور زندگی دوبارہ معمول پر آئے۔ اسی کے ساتھ دہلی میں حکمرانوں کو بھی اتنی سمجھ عطا کرے کہ بھارت کا مستقبل تنوع، اتحاد اور مختلف مذاہب اور فرقوں کے مابین ہم آہنگی میں مضمر ہے،  نہ کہ پوری آبادی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے اور ایک ہی کلچر کو تھوپنے سے۔