′دہشت گرد′ ماکروں مسلمانوں کو اشتعال دلا رہے ہیں، رمضان قدیروف | حالات حاضرہ | DW | 27.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

'دہشت گرد' ماکروں مسلمانوں کو اشتعال دلا رہے ہیں، رمضان قدیروف

چیچنیا کے مشہور لیڈر رمضان قدیروف نے فرانسیسی صدر پر مسلمانوں کو اشتعال دلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کا موازنہ ایک دہشت گرد سے کیا ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش میں بھی فرانس مخالف بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

روس کے مسلم اکثریتی جنوبی علاقے کے سربراہ اور طاقتور سمجھے جانے والے لیڈر رمضان قدیروف نے فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے موقف کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چوالیس سالہ قدیروف کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا، "فرانس کے صدر خود بھی دہشت گرد نظر آنے لگے ہیں۔”

ان کا مزید کہنا تھا، "اشتعال انگیزی کی حمایت کرنے سے درپردہ وہ خود مسلمانوں کو ایسے جرائم کرنے پر ابھار رہے ہیں۔”

فرانس میں کلاس روم میں پیغمبر اسلام کے خاکے دکھانے پر ایک استاد کو چیچین لڑکے نے سر قلم کرتے ہوئے قتل کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں فرانسیسی صدر کا کہنا تھا، "مسلم انتہاپسندی کے سامنے ہتھیار نہیں پھینکے جائیں گے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا، "ان خاکوں کا سلسلہ نہیں روکا جائے گا۔ اس معاملے میں پیچھے ہٹنے کی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی۔”

رمضان قدیروف کا تنقید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ماکروں کے موقف نے تقریبا دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور اس طرح کی حکمت عملی کے "افسوسناک” نتائج نکل سکتے ہیں۔

ایردوآن کا ماکروں مخالف بیان ’گری ہوئی، ناقابل قبول بات،‘ جرمن وزیر

توہین مذہب: پاکستانی عدالت نے سزائے موت پانے والا ملزم بری کر دیا

ان کا مزید کہنا تھا، "اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ماکروں کو ایسی اشتعال انگیزی اور عقائد پر حملے بند کرنا ہوں گے۔ دوسری صورت میں ان کا تاریخ میں شمار ان صدور کی فہرست میں ہو گا، جنہوں نے پاگل پن کے فیصلے کیے۔”

رمضان قدیروف کا صدر ماکروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا، آپ آسانی سے اپنے آپ کو اپنے" ملک میں دہشت گردی کا قائد اور معمار کہہ سکتے ہیں۔”

بنگلہ دیش میں بڑا احتجاجی مظاہرہ

فرانسیسی صدر کے بیان کو دنیا بھر کے مسلم ممالک میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شام اور لیبیا سمیت کئی عرب ممالک میں ماکروں کی تصویر کو جلایا گیا ہے۔ مسلم دنیا میں فرانسیسی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کی مہم بھی جاری ہے۔

منگل کے روز بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں بھی فرانس مخالف ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔

احتجاج میں شریک افراد نے فرانس مخالف نعرے لگاتے ہوئے فرانسیسی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی صدر ایمانویل ماکروں کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔

پولیس اندازوں کے مطابق اس ریلی میں تقریبا چالیس ہزار افراد شریک تھے۔ پولیس حکام کے مطابق آئندہ جمعے کے روز بنگلہ دیش بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جا سکتے ہیں۔

فرانسیسی صدر کے بیانات کی وجہ سے فرانس کی ترکی کے ساتھ پہلے ہی سفارتی کشیدگی جاری ہے جبکہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں پاکستان نے بھی فرانسیسی سفیر کو طلب کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا اور صدر ماکروں کے بیان کو "اسلاموفوبیا” قرار دیا۔

گارمنٹس سیکٹر میں متعدد فرانسیسی کمپنیاں بنگلہ دیشی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اربوں کا کاروبار کر رہی ہیں۔ جبکہ فرانسیسی سمینٹ فیکڑی لافارج نے بھی بنگلہ دیش میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

سن دو ہزار پانچ میں بھی ایک ڈینش اخبار نے پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کیےتھے،جس کے بعد دنیا بھر کے مسلم ممالک میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

ع ح / ا ا ( اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے)