دہشت گردی کے خطرات: جرمن فُٹ بال ٹیم کے لیے ایک اور دھچکا | کھیل | DW | 18.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

دہشت گردی کے خطرات: جرمن فُٹ بال ٹیم کے لیے ایک اور دھچکا

منگل 17 نومبر کو جرمن فُٹ بال ٹیم ہالینڈ کی ٹیم کے خلاف ایک دوستانہ میچ کھیلنے کے لیے ہینوور کے اسٹیڈیم کی طرف روانہ ہو چکی تھی، جب کھلاڑیوں کو بتایا گیا کہ دہشت گردی کے خطرات کے سبب میچ ملتوی کر دیا گیا ہے۔

فرانس کے ہوٹل کو بم کے خطرات کے سبب خالی کرنے اور پیرس کے فُٹ بال اسٹیڈیم اسٹاڈ ڈے فرانس میں فرانسیسی ٹیم کے خلاف کھیلے جانے والے دوستانہ میچ کے دوران پیرس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد فُٹ بال ورلڈ چیمپیئن جرمنی کے کھلاڑیوں کو ایک بار پھر دہشت گردی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔

منگل 17 نومبر کو جرمن فُٹ بال ٹیم ہالینڈ کی ٹیم کے خلاف ایک دوستانہ میچ کھیلنے کے لیے ہینوور کے اسٹیڈیم کی طرف روانہ ہو چکی تھی، جب کھلاڑیوں کو بتایا گیا کہ دہشت گردی کے خطرات کے سبب میچ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے جرمن ٹیم کو ہینوور کے مضافات میں موجود ان کے ہوٹل واپس پہنچا دیا۔ بعد ازاں جرمن کھلاڑی بذریعہ ہوائی جہاز یا کاروں کے ذریعے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ یہ میچ شروع ہونے سے کوئی 90 منٹ قبل منسوخ کیا گیا۔

Absage Fußball Länderspiel Deutschland Niederlande

ہینوور کے اسٹیڈیم کے باہر بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکارتعینات

جرمن شہر ہینوور کے میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جنہوں نے مبینہ دہشت گردوں اور مشکوک اشیاء کی تلاش کا کام شروع کر دیا۔ جرمن فُٹ بال فیڈریشن کے شریک عبوری صدر رائنہارڈ راؤبل نے اپنے بیان میں کہا، ’’میں کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ہماری ٹیم کو چار روز کے اندر اندر دوسری بار اتنے المناک واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔

گزشتہ جمعے کی صبح پہلے جرمن ٹیم کو پیرس کا وہ ہوٹل فوری طور پر خالی کرنا پڑا جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھی۔ کھلاری اس ہوٹل کے نزدیک ٹینس سنٹر ’رولانڈ گیروس‘ میں پریکٹس کر رہے تھے۔ اس مقام سے لوکاس پوڈولسکی نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا تھا، 'Football vs tennis' اور ساتھ ہی انہوں نے اپنی، گول کیپر رون رابرٹ سیلر اور کپتان سباستیان شوائن اشٹائگر کی تصاویر بھی پوسٹ کی تھیں۔ مگر بارہ گھنٹوں بعد ہی جرمن فُٹ بال ٹیم کو پیرس کے اسٹیڈیم میں دہشت گردی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا جس نے انہیں جذباتی طور پر کافی متاثر کیا۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے پیرس کے فُٹ بال اسٹیڈیم اسٹاڈ ڈے فرانس کے باہر تین خودکش حملے کیے گئے جس کے بعد جرمن کھلاڑی خوف و ہراس کے سبب اپنے ہوٹل لوٹنے سے بھی گھبرا رہے تھے۔

Absage Fußball Länderspiel Deutschland Niederlande

میچ شروع ہونے سے کوئی 90 منٹ قبل اسے منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا

جرمن شہر میونخ سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر نفسیات فلوریان ہولسبوئیر جو ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کے شعبہ نفسیات کے سربراہ بھی ہیں، اس بارے میں کہتے ہیں، ’’کھلاڑیوں کے ذہنوں پر پیرس اسٹیدڈیم کے ہولناک واقعات کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ یہ اسے اتنی آسانی سے نہیں بھول پائیں گے۔ یہ احساس ایسا ہی ہے جیسے کسی مقام پر بُری شکست کھانے کے بعد کا احساس ہوتا ہے‘‘۔

جرمن ماہر نے کہا ہے کہ پیرس کے فُٹ بال اسٹیڈیم اسٹاڈ ڈے فرانس کی طرف دوبارہ رُخ کرنا کھلاڑیوں کے لیے ایک طویل عرصے تک بہت مشکل ہوگا۔

ہینوور کے فُٹ بال میچ کی منسوخی کے بارے میں جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے کہا، ’’میچ میرے مشورے سے منسوخ کیا گیا تھا کیونکہ اِس وقت جرمنی اور یورپ کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔‘‘

DW.COM