1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
BG Waldbrände in Australien
تصویر: Reuters/AAP Image/D. Peled

دو ہزار سولہ تاریخ کا گرم ترین سال قرار

16 جنوری 2020

اقوام متحدہ نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ گزشتہ دہائی گرم ترین دہائی تھی جبکہ سن دو ہزار انیس کو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا ہے اور ریکارڈ کے مطابق اب تک کا سب سے گرم سال دو ہزار سولہ تھا۔

https://www.dw.com/ur/%D8%AF%D9%88-%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D9%84%DB%81-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-%DA%A9%D8%A7-%DA%AF%D8%B1%D9%85-%D8%AA%D8%B1%DB%8C%D9%86-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1/a-52025648

اقوام متحدہ نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ گزشتہ دہائی گرم ترین دہائی تھی جبکہ سن دو ہزار انیس کو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اب تک کا سب سے گرم سال دو ہزار سولہ تھا۔
عالمی محکمہ موسمیات نے ایک بیان میں کہا کہ انیس سو اسی سے لے کر اب تک ہر دہائی پچھلے عہد کی نسبت زیادہ گرم رہی۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ اس رحجان کے آگے بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔ ڈبلیو ایم او کی یہ تحقیق پوری دنیا سے اکٹھے کیے گیے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
عالمی محکمہ موسمیات کے سربراہ پیٹیری ٹالس نے کہا کہ دو ہزار بیس کا آغاز وہیں سے ہوا ہے جہاں گرم درجہ حرارت اور بدلتے موسمی حالات  کے ساتھ دو ہزار انیس کو چھوڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے سن دو ہزار بیس اور آنے والی دہائیوں میں بھی  ضرر رساں گیسوں  کے اخراج میں اضافے کی وجہ سے بہت زیادہ شدید موسم دیکھنے کو ملے گا۔ اس موقع پر ٹالس نے خاص طور پر آسٹریلیا کی جنگلاتی آگ کا حوالہ دیا جس میں کم از کم اٹھائیس افراد ہلاک، سینکڑوں بے گھر اور تقریبا ایک ارب جانور ہلاک ہو گئے تھے۔       
سمندر بدلتے موسم کا سب سے بڑا شکار
اقوام متحدہ کا کہنا تھا پیرس میں طے پانے والے عالمی ماحولیاتی معاہدے پرکئی ممالک نے اس عہد کے ساتھ دستخط کیے تھے کہ  2030ء تک  ہر سال  ضرر رساں گیسوں کے اخراج کو سات اعشارہ چھ فیصد تک کم کیا جائے تا کہ  زمینی حدت کو ایک اعشاریہ پانچ  سینٹی گریڈ اور دو اعشاریہ سات فارن ہائیٹ تک محدود کیا جا سکے۔
ٹالس کے مطابق جدید موسمی ریکارڈ رکھنے کا آغاز اٹھارہ سو پچاس میں ہوا اور تب سے اب تک عالمی درجہ حرارت میں اوسطاً  ایک اعشاریہ ایک درجے کا اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ دنیا کی بیشتر حرارت سمندروں میں محفوظ ہے، اس وجہ سے سمندری حیات اور ماحولیاتی نظام سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ اس  کا ثبوت مچھلیوں اور کورل ریف کا بڑے پیمانے پر خاتمہ ہے۔
ٹالس کا کہنا تھا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں تین سے پانچ ڈگری اضافے کا امکان ہے۔

ع ش۔ ع ا۔ اے ایف پی۔ روئٹرز

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

China | Taiwan | Militärische Übungen Chinas vor Taiwans Küste

تائیوان کے گرد چینی فوجی مشقوں کی مدت میں توسیع

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں