دو سال بعد بھارتی خواتین بھی لڑاکا طیارے اڑائیں گی | حالات حاضرہ | DW | 24.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دو سال بعد بھارتی خواتین بھی لڑاکا طیارے اڑائیں گی

بھارتی حکومت نے خواتین کو لڑاکا طیارے اڑانے اور جنگی مشنوں میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی وزارت دفاع کے مطابق ہوا بازی کے دیگر شعبوں میں خواتین کی کارکردگی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہو گا کہ بھارت میں خواتین لڑاکا طیارے اڑا پائیں گی۔ بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ طیارے اور ہیلی کاپٹر اڑانے میں خواتین پائلٹس کی کارکردگی ان کے مرد ساتھیوں جیسی دیکھی گئی ہے، جس کی بنیاد پر انہیں لڑاکا طیارے اڑانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق اگلے برس خواتین پائلٹس کی تربیت کا آغاز کر دیا جائے گا اور دو سن 2017ء میں خواتین بھی لڑاکا طیاروں کے کاک پٹس میں دکھائی دیں گی۔

بھارتی ایئر فورس کے متعدد شعبوں میں خواتین ہوا باز موجود ہیں، جن میں انتظامیہ، لاجسٹکس، موسمیات، نیویگیشن، تعلیم اور ایروناٹیکل انجینیئرنگ کے شعبے شامل ہیں، تاہم بھارت میں ابھی تک کسی خاتون کو لڑاکا طیارے اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

Jet der Indian Air Force

دو برس بعد بھارتی خواتین لڑاکا طیارے اڑانے لگیں گی

دنیا کی سب سے بڑی افواج والے ممالک میں سے ایک بھارت میں وزارت دفاع کے اس فیصلے سے خواتین کے مسلح جنگی مشنوں میں کردار ادا کرنےکی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

نئی دہلی میں وزارت دفاع کے بیان کے مطابق، ’’خواتین کے لیے جنگی مشنوں میں کردار ادا کرنےکی اجازت کے ساتھ اب بھارتی فضائیہ کے تمام شعبوں اور شاخوں میں خواتین کی شمولیت کی راہ کھل گئی ہے۔‘‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ جون 2017 تک خواتین لڑاکا طیاروں کے کاک پٹس میں ہوں گی، ’’یہ قدم بھارتی خواتین کے عزم اور جدید اقوام کی مسلح افواج میں خواتین کے مؤثر کردار کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔‘‘

ملکی وزارت دفاع کے اس قدم سے اب صرف بھارتی فضائیہ ہی کے تمام شعبوں میں خواتین کی شمولیت کے راستے نہیں کھلے بلکہ مسلح افواج کی تمام شاخیں خواتین کے لیے کھل گئی ہیں اور اب وہ جنگی مشنوں سمیت کسی بھی شعبے میں ملازمت اختیار کر سکتی ہیں۔

گزشتہ برس بھی ایسے ہی مطالبات کے جواب میں بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اروپ راہا نے خواتین کے حق میں فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا، ’’خواتین جسمانی طور پر نہیں، فطری طور پر لڑاکا طیارے اڑانے اور کئی گھنٹے مسلسل پرواز کرنے کے لیے نہیں ہیں۔‘‘