دورانِ حمل ملٹی وٹامنز کا استعمال غیر ضروری ہے | صحت | DW | 12.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

دورانِ حمل ملٹی وٹامنز کا استعمال غیر ضروری ہے

ایک حالیہ سائنسی رپورٹ کے مطابق ایک صحت مند عورت کا حمل کے دوران ملٹی وٹامنز یا جسم میں معدنیات کی کمی پوری کرنے والی خوراک کا استعمال ایک غیر ضروری عمل ہے۔

Baby Gammy Leihmutter Down Syndrom Thailand Australien

فولک ایسڈ بچوں میں ذہنی بیماریوں اور ریڑھ کی ہڈی سے جڑے مسائل کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک حاملہ خاتون کو ان ’سپلیمینٹس‘ کی تشہیر میں بتایا جاتا ہے کہ یہ صحت کے لیے ضروری ہیں۔ جو خواتین انہیں استعمال کرتی ہیں وہ ان سپلیمنٹس پر ہر ماہ لگ بھگ 20 امریکی ڈالر خرچ کرتی ہیں۔

نئی سائنسی رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کو یہ کہہ کر ملٹی وٹامنز فورخت کی جاتی ہیں کہ یہ ان کے بچے کو ایک بہتر اور صحت مند زندگی کا آغاز کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔ اس رپورٹ کے مطابق روزانہ کی بنیادوں پر وٹامن بی یا فولک ایسڈ اور کم تعداد میں وٹامن ڈی کا استعمال حاملہ خواتین کے لیے فاعدہ مند ہو سکتا ہے تاہم کچھ وٹامنز کی زیادتی جیسے کے وٹامن اے، حمل کے دوران خواتین کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ تجزیاتی رپورٹ ’ڈرگ اینڈ تھیریپیوٹک بلیٹن‘ میں شائع ہوئی ہے جس کا مقصد برطانوی ڈاکٹروں کو بیماریوں اورعلاج کی مینیجمنٹ کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے،’’ ہمیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو یہ ثابت کرتے ہوں کہ تمام حاملہ خواتین کو فولک ایسڈ اور وٹامن ڈی کے علاوہ دیگر ملٹی وٹامنز یا سپلیمینٹس استعمال کرنے چاہیں۔‘‘

Kolumbien mit Zika Virus infizierte Schwangere Frauen

ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو یہ ثابت کرتے ہوں کہ تمام حاملہ خواتین کو فولک ایسڈ اور وٹامن ڈی کے علاوہ دیگر ملٹی وٹامنز یا سپلیمینٹس استعمال کرنے چاہیں

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حاملہ خواتین صحت مند اور متوازن خوراک کا استعمال کریں اور وہ اشیاء زیادہ استعمال کریں جن میں فولک ایسڈ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ’’وہ خواتین جو حاملہ ہیں یا حاملہ ہونا چاہتی ہیں ان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ انہیں ملٹی وٹامنز استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ایک غیر ضروری خرچہ ہے۔‘‘

اس رپورٹ میں دی گئی تجاویز کے مطابق حاملہ خواتین کے لیے حمل کے پہلے بارہ ہفتوں تک روزانہ 400 ملی گرام فولک ایسڈ کا استعمال اہم ہے۔ ریسرچ کے مطابق حمل ٹھہر جانے سے زچگی کے بعد اور پھر بچے کو دودھ پلانے کے عرصے میں روزانہ 10 ملی گرام وٹامن ڈی استعمال کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ فولک ایسڈ بچوں میں ذہنی بیماریوں اور ریڑھ کی ہڈی سے جڑے مسائل کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے جبکہ وٹامن ڈی کو ایک صحت مند دل اور ہڈیوں کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار