دنیا میں موت کی سزا میں اضافہ ہوا ہے: ایمنسٹی | معاشرہ | DW | 27.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا میں موت کی سزا میں اضافہ ہوا ہے: ایمنسٹی

اقوام عالم میں انسانی حقوق کے احترام پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مختلف جرائم میں ملوث افراد کو دی جانے والی موت کی سزاؤں کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔

default

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے سن 2011 کے دوران دی جانے والی موت کی سزاؤں کے اعداد و شمار سے متعلق سالانہ رپورٹ ریلیز کر دی گئی ہے۔ امریکی شہر نیو یارک میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوزن نوسل (Suzanne Nossell) نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ وہ واحد ملک ہے جو مغربی جمہوری اقدار پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بھی موت کی سزا کے قانون کا حامل ہے۔

Symbolbild Abschaffung der Todesstrafe

مغربی ملکوں میں پھانسی کی سزا ختم کر دی گئی ہے

ایمنسٹی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ وہ خطہ ہے جہاں موت کی سزا کے قانون پر گزشتہ سال زیادہ عمل کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موت کی سزا دینے میں چین، سعودی عرب، ایران، عراق اور امریکہ سرفہرست ہیں۔ امریکہ اس فہرست میں پانچویں مقام پر ہے۔ سن 2011 کے دوران مختلف امریکی ریاستوں میں کل 43 مجرموں کو موت کی سزائیں دی گئیں۔ ایمنسٹی کے مطابق امریکہ میں ان ریاستوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو موت کی سزا کے قانون کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سن 2011 میں کل 674 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔ موت کی سب سے زیادہ سزا چین میں دی جاتی ہے۔ گزشتہ سال بھی یہ تعداد دنیا بھر کی دیگر اقوام سے کہیں زیادہ رہی۔ اس بین الاقوامی ادارے کے جنرل سیکرٹری سلیل شیٹھی کے مطابق صرف 20 ملکوں میں موت کی سزا کا قانون عملاً موجود ہے اور دنیا کے 178 ممالک اس قانون پر عمل نہیں کرتے۔ سلیل شیٹھی کے مطابق موت کی سزا دینے والے ملکوں کی تعداد میں واضح کمی ہوئی ہے۔

Todesstrafengegner

موت کی سزا کے مخالفین اس سزا کو انسان دشمن قرار دیتے ہیں

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق سن 2011 کے دوران 20 ملکوں میں کل 674 مجرموں کو دی جانے والی موت کی سزا کے مقابلے میں سن 2010 میں 527 مجرموں کو 23 ملکوں میں موت کی سزا دی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق موت کی سزا دینے والے ملکوں میں تین کی کمی ضرور واقع ہوئی ہے لیکن سزائے موت پانے والوں میں 149 کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

چین میں موت کی سزا پانے والوں کی حتمی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سزا کے حامل افراد کے بارے میں معلومات ریاستی سیکرٹ تصور کی جاتی ہیں۔ چین میں فعال انسانی حقوق کے گروپوں اور کارکنوں کے مطابق موت کی سزا پانے والے ہزاروں میں ہوتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں پچاس فیصد اضافے کے ساتھ ایسے مجرموں کی تعداد 550 بتائی گئی ہے۔ ان میں سے صرف ایران میں 360 مجرموں یا حکومت مخالف افراد کو تختہٴ دار پر لٹکا دیا گیا۔ سعودی عرب میں موت کی سزا پانے والوں کی تعداد 82 رہی جب کہ سن 2010 میں یہ تعداد صرف 27 تھی۔ عراق میں 68 افراد کو موت کا سرکاری پروانہ دیا گیا۔ عراق میں سن 2010 کے دوران صرف ایک مجرم کو موت کی سزا دی گئی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک