دنیا بھر میں بیالیس کروڑ سے زائد انسان ذیابیطس کا شکار | صحت | DW | 06.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

دنیا بھر میں بیالیس کروڑ سے زائد انسان ذیابیطس کا شکار

عالمی ادارہ صحت کی ذیابیطس کے بارے میں پہلی عالمگیر رپورٹ کے مطابق گزشتہ پینتیس برسوں میں قریب چار گنا اضافے کے بعد اس وقت دنیا بھر میں اس بیماری کے شکار بالغ انسانوں کی تعداد بیالیس کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔

جنیوا سے، جہاں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یا WHO کا ہیڈکوارٹر ہے، بدھ چھ اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ 1980 میں پوری دنیا میں ذیابیطس یا عرف عام میں شوگر کی بیماری کہلانے والے اس مرض کے شکار انسانوں کی مجموعی تعداد 108 ملین تھی۔ لیکن گزشتہ قریب ساڑھے تین عشروں میں اس تعداد میں تقریباﹰ چار گنا کا اضافہ ہو چکا ہے اور اس وقت یہ تعداد 422 ملین یا 42 کروڑ 20 لاکھ بنتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ کروڑہا انسان وہ ہیں جو بالغ ہیں اور شوگر یا شکر کی بیماری کے مریض ہیں۔ ان بچوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے جو کم عمری کے باوجود مختلف وجوہات کے باعث اس مرض میں مبتلا ہیں۔

کل سات اپریل جمعرات کے روز منائے جانے والے عالمی یوم صحت کی مناسبت سے، جس کا اس سال موضوع بھی ذیابیطس ہی ہے، آج بدھ کے روز جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ذیابیطس کے پھیلاؤ میں اس تیز رفتار اضافے کی ایک بڑی وجہ عام لوگوں کے طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے اپنی نوعیت کی اس اولین رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ تبدیلی کے اس عمل سے مراد وقت کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی میں اس حوالے سے آنے والی تبدیلیاں ہیں کہ لوگ ’کھاتے کیا ہیں، نقل و حرکت کیسے کرتے ہیں اور زندہ کیسے رہتے ہیں‘۔

عالمی ادارہ صحت نے اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ 2012 میں شوگر کی بیماری کی وجہ سے براہ راست کم از کم 1.5 ملین انسان موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ اسی سال ذیابیطس کے ضمنی اثرات نے مزید 2.2 ملین افراد کی جان لے لی۔ اس طرح 2012 میں شوگر کی وجہ سے 3.7 ملین انسانوں کی موت واقع ہوئی۔

ungesundes Essen

ذیابیطس کے پھیلاؤ میں تیز رفتار اضافے کی بڑی وجہ عام لوگوں کی کھانے پینے کی عادات اور طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیاں ہیں

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کا مرض بنیادی طور پر دو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ٹائپ ون کہلانے والی شوگر کی بیماری سے بچنے کا کوئی حتمی طریقہ ابھی تک دریافت نہیں ہوا۔ یہ بیماری اس وقت لاحق ہوتی ہے جب انسانی جسم میں کافی انسولین پیدا نہیں ہوتی۔

دوسری قسم یا ٹائپ ٹو ذیابیطس، جس کے مریضوں کی تعداد ٹائپ ون کے شکار انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بنتی ہے، کا تعلق عام طور پر موٹاپے اور طرز زندگی سے بتایا جاتا ہے۔ اس کے شکار افراد زیادہ تر بالغ انسان ہوتے ہیں لیکن اب اس قسم کا ذیابیطس بچوں میں بھی تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر مختلف معاشروں اور صحت عامہ کے نظاموں پر اس بیماری کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے عالمگیر سطح پر عام لوگوں کی کھانے پینے اور نقل و حرکت سے متعلق عادات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان کی زندگیوں کے ابتدائی سالوں میں کیونکہ یہی سال عام انسانوں کی زندگی میں ان کے انفرادی رویوں کے تعین اور طرز زندگی میں پختگی کے سال ہوتے ہیں۔

DW.COM

اشتہار