’دنيا ديکھ رہی ہے، خاشقجی قتل کيس ميں سب سچ کے منتظر ہيں‘ | حالات حاضرہ | DW | 08.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’دنيا ديکھ رہی ہے، خاشقجی قتل کيس ميں سب سچ کے منتظر ہيں‘

اقوام متحدہ کی ايک تفتيش کار نے خاشقجی قتل کيس کی اپنی ابتدائی رپورٹ ميں کہا ہے کہ سعودی حکام نے نہ صرف ترک تفتيش کاروں کے کام ميں رکاوٹيں ڈاليں بلکہ سعودی صحافی کو ایک منصوبے کے تحت قتل کيا گيا تھا۔

صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقيقات ميں سعودی حکام کی جانب سے شفافيت بالکل ہی نہ ہونے کے سبب ان کے قابل بھروسہ ہونے پر سوالیہ نشان لگا ديتی ہے۔ يہ بات ترک صدر رجب طيب ايردوآن کے ايک قريبی ساتھی و کميونيکيشنز ڈائريکٹر فہرتين التون نے جمعے کو کہی۔ ان کے بقول سعودی اہلکاروں کی جانب سے متعدد مرتبہ غلط بيانی کی گئی جس کے سبب اس کيس کے کئی اہم پہلوؤں پر سواليہ نشان لگ جاتا ہے۔

امريکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ليے لکھنے والے سعودی حکومت کے ناقد صحافی جمال خاشقجی کو پچھلے سال اکتوبر کے اوائل ميں استنبول ميں سعودی قونصل خانے ميں قتل کر ديا گيا تھا۔ رياض حکومت نے اس بارے ميں کئی مرتبہ اپنا موقف تبديل کيا اور پھر بعد ازاں يہ تسليم کر ليا گيا کہ خاشقجی کو قتل کر کے ان کی لاش کو ٹھکانے لگا ديا گيا۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی قيادت ميں اس کيس کی تفتيش کے ابتدائی نتائج بھی عام کيے گئے، جن کے مطابق ايسا معلوم ہوتا ہے کہ خاشقجی کا ظالمانہ انداز ميں قتل پہلے سے کی گئی منصوبہ بندی کے تحت اور سعودی حکام کی ہدايت پر کيا گيا۔ ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی تفتيش کرنے والی ماہر ايگنس کالامارڈ نے اپنی تفتيش کے ابتدائی نتائج کا اعلان گزشتہ روز کيا جبکہ حتمی اور تفصيلی رپورٹ اس سال جون ميں جاری کی جائے گی۔ کالامارڈ نے يہ بھی کہا کہ سعودی عرب نے استنبول ميں سعودی قونصل خانے ميں گزشتہ برس اکتوبر ميں قتل ہونے والے خاشقجی کے قتل کی تحقيقات کے عمل ميں بھی رکاوٹيں ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ ان کے مطابق ترک تفتيش کاروں کو بہت کم وقت ديا گيا اور چيزوں تک رسائی بھی انتہائی محدود تھی۔ اس کےسبب یہ تفتیش بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اُترتی۔

 ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی تفتيش کرنے والی ماہر ايگنس کالامارڈ

ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی تفتيش کرنے والی ماہر ايگنس کالامارڈ

دريں اثناء فہرتين التون نے جمعے کو مزيد کہا کہ سعودی حکام اس کيس کی تفتيش کے معاملے ميں نہ صرف ترک حکام بلکہ عالمی برادری کے ساتھ بھی عدم تعاون کا مظاہرہ کر رہےہيں۔ انہوں نے مطالبہ کيا کہ رياض حکومت انصاف تک پہنچنے اور اپنی سنجيدگی ثابت کرنے کے ليے خاشقجی کے قاتلوں کو ترکی کے حوالے کرے۔ يہ امر اہم  ہے کہ سعودی عرب نے داخلی سطح پر اس کيس کی تفتيش کر کے گيارہ افراد کے خلاف عدالتی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے، جن ميں سے پانچ کو سزائے موت کا سامنا بھی ہے۔ رياض حکومت ان کی حوالگی کے مطالبات البتہ مسترد کرتی آئی ہے۔

ترک صدر رجب طيب ايردوآن يہ الزام عائد کر چکے ہيں کہ خاشقجی کے قتل کے احکامات اعلٰی قيادت کی جانب سے جاری کيے گئے جبکہ رياض حکومت ايسے الزامات قطعی طور پر رد کرتی ہے۔  ايردوآن کے ايک قريبی ساتھی و کميونيکيشنز ڈائريکٹر فہرتين التون نے جمعے کو کہا کہ دنيا ديکھ رہی ہے اور اس معاملے ميں سب سچ کے منتظر ہيں۔

ع س / ع آ، نيوز ايجنسياں