دل کے مریضوں کے لیے نئی امید: بیٹری کے بغیر پہلا پیس میکر | صحت | DW | 24.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

دل کے مریضوں کے لیے نئی امید: بیٹری کے بغیر پہلا پیس میکر

سائنسدانوں نے پہلی بار ایک ایسا تجربہ کیا ہے، جو دل کے مریضوں کے لیے نئی امید ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ ایک بڑے جاندار کو ایسا پیس میکر لگایا گیا ہے، جو بیٹری کے بغیر چلتا ہے اور جسے توانائی دل کی دھڑکن سے ملتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طویل المدتی بنیادوں پر یہ پیس میکر کام کرتا رہا، تو اس کی مدد سے ایسے انسانوں کے لیے ایک بڑی سہولت پیدا ہو جائے گی، جو دل کے مریض ہیں اور جنہیں ہر چند برس بعد اپنے پیس میکر کی بیٹری بدلوانا پڑتی ہے۔

عوامی جمہوریہ چین کی سائنسی علوم کی قومی اکیڈمی کے ماہر اور اس تجربے کے مرکزی محقق ژُو لی کے مطابق اگر یہ تجربہ کامیاب رہا، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ دل کے مریضوں کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔ اس شعبے میں دنیا بھر کے سائنسدان کام کر رہے ہیں کیونکہ اس وقت عالمی سطح پر ایسے انسانوں کی تعداد کئی ملین ہے، جو دل کے مختلف عارضوں میں مبتلا ہیں اور اپنی دھڑکن  کو معمول کے مطابق رکھنے کے لیے پیس میکر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

اب تک ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی بھی انسان کے جسم میں دل کے قریب کوئی پیس میکر لگایا جاتا ہے، تو اس کی بیٹری کئی مرتبہ بدلنا پڑتی ہے، کیونکہ کئی برس تک استعمال کے بعد اس کی کارکردگی معمول کے مطابق نہیں رہتی اور مریض کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

Arne Larsson mit Herzschrittmacher

سویڈش انجینیئر آرنے لارسن دنیا کے وہ پہلے دل کے مریض تھے، جنہیں انیس سو ساٹھ کی دہائی میں پیس میکر لگایا گیا تھا

پیس میکر کے لیے توانائی دل کی دھڑکن سے

ماہرین کے مطابق یہ پیس میکر دراصل ایک طرح کا بہت چھوٹا سا جنریٹر ہے، جسے چینی اور امریکی ماہرین نے مل کر تیار کیا ہے۔ یہ پیس میکر کسی بھی عام پیس میکر کی طرح مریض کی سینے میں دل سے کچھ اوپر لگایا جاتا ہے اور وہ مریض یا مریضہ کے دل کی دھڑکن کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔

اس انتہائی جدید پیس میکر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مریض یا مریضہ کی حرکت اور اس کے دل کی دھڑکن سے پیدا ہونے والی حرکی توانائی سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے اور اسی لیے اسے بیٹری کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

ماہرین کے مطابق فی الحال یہ نیا پیس میکر تجرباتی طور پر ایک خنزیر کے جسم میں لگایا گیا ہے، جس کا ایک جاندار کے طور پر جسمانی نظام اپنی کارکردگی میں انسان جسم کے نظام سے بہت مشابہہ ہوتا ہے۔

اب سائنسدانوں کا ارادہ اس پیس میکر پر اس حد تک مزید تحقیق کرنے کا ہے کہ اسے مستقبل میں انسانوں میں بھی لگایا جا سکے۔

سائنسی تحقیقی جریدے ’نیچر کمیونیکیشن‘ میں شائع ہونے والی اس تجربے کی تفصیلات کے مطابق اس پیس میکر کو ’انرجی ہاروَیسٹر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس طرح کے چند بہت چھوٹے پیس میکرز کے تجربات گزشتہ برسوں میں بہت چھوٹے چھوٹے جانوروں، مثلاﹰ چوہوں پر تو کیے گئے تھے لیکن وہ زیادہ کامیاب نہیں رہے تھے۔ اب پہلی بار سائنسدان اس قابل ہو گئے ہیں کہ انہوں نے ایسا ایک مقابلتاﹰ بڑا پیس میکر ایک خنزیر کے سینے میں لگا دیا ہے اور اس تجربے سے ان کی بہت سے امیدیں وابستہ ہیں۔

آلیگزانڈر فروئنڈ / م م / ع ا

DW.COM