داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے علاقے، پچاس اجتماعی قبریں دریافت | حالات حاضرہ | DW | 07.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے علاقے، پچاس اجتماعی قبریں دریافت

اقوام متحدہ کے ایک مندوب کے مطابق عراق میں داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے علاقوں سے اس دہشت گرد گروہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی پچاس اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں، جن میں سے تین فٹ بال کے ایک میدان میں ملیں۔

نیو یارک سے ہفتہ سات مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے مندوب ژان کُوبِس نے عالمی سلامتی کونسل کو بتایا کہ بیسیوں اجتماعی قبروں کی دریافت کی صورت میں ان شرمناک جرائم کا پتہ حال ہی میں عراق کے ایک ایسے علاقے میں چلا، جسے عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے قبضے سے چھڑایا گیا تھا۔

Jan Kubis نے سلامتی کونسل کو جمعے کی رات بتایا، ’’یہ وہ جرائم ہیں، جن کا ارتکاب آئی ایس کے جہادیوں نے کیا۔ اب تک عراقی دستوں نے امریکا کی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد کے فضائی حملوں کی مدد سے عراق کے جن علاقوں سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال دیا ہے، وہاں مجموعی طور پر 50 تک اجتماعی قبریں دریافت کی جا چکی ہیں۔‘‘

عالمی ادارے کے مندوب کُوبِس نے سکیورٹی کونسل کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا، ’ان ہولناک جرائم کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ رمادی کے شہر میں، جسے عراقی فورسز نے داعش کے جہادیوں کو پسپائی پر مجبور کرتے ہوئے آزاد کرا لیا تھا، اپریل کے آخر میں متعدد اجتماعی قبریں دریافت کی گئیں۔ ان میں سے تین فٹ بال کے ایک میدان سے ملیں، جن میں مجموعی طور پر کم از کم 40 انسانوں کی جسمانی باقیات پائی گئیں۔‘‘

رمادی کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ عراقی فورسز نے اسے گزشتہ برس کے اواخر میں اس وقت آزاد کرا لینے کا دعویٰ کیا تھا جب انہوں نے ابھی اس مرکزی حکومتی کمپاؤنڈ پر قبضہ کیا تھا جو اس شہر پر جہادیوں کے قبضے کے بعد سے داعش کے کنٹرول میں تھا۔ تاہم رمادی کے مختلف حصوں میں موجود ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جہادیوں کے وہاں سے نکالے جانے کے بعد اس شہر پر بغداد حکومت کے دستوں کا مکمل قبضہ اس سال فروری میں ممکن ہو سکا تھا۔

اس کے علاوہ ژان کُوبِس نے سلامتی کونسل کے رکن ملکوں کو یہ بھی بتایا کہ عراق میں انسانی سطح پر پایا جانے والا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عراق کی قریب ایک تہائی آبادی یا ایک کروڑ سے زائد شہریوں کو انسانی بنیادوں پر امداد کی اشد ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے مندوب کے مطابق اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے عراقی باشندوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں اب دگنی ہو چکی ہے۔

اس بریفنگ میں عالمی سلامتی کونسل کو بتایا گیا کہ اگر عراق میں حالات اس طرح خراب تر ہوتے رہے اور پسپائی پر مجبور داعش کو ابھی تک اس کے زیر قبضہ علاقوں سے نکالنے کے لیے حکومتی فورسز کی عسکری کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں، تو اس سال کے آخر تک مزید دو ملین عراقی شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

DW.COM