داعش کا سینیئر اہلکار اور مالی امور کا نگران عراق میں گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 11.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

داعش کا سینیئر اہلکار اور مالی امور کا نگران عراق میں گرفتار

عراق فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جہادی تنظیم داعش کے ایک انتہائی سینیئر اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والا داعش کا یہ کارکن امریکا کو بھی مطلوب تھا اور عالمی دہشت گردوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

دولتِ اسلامیہ نامی دہشت گرد تنظیم کے سابق نائب سربراہ سمی جاسم الجبوری کے سر کی قیمت امریکا نے پچاس لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ یہ اسلامک اسٹیٹ کے عروج کے دور میں اس وقت کے لیڈر ابوبکر البغدادی کا دست راست اور انتہائی قریبی رفیق قرار دیا جاتا ہے۔

ابو بکر البغدادی کو اکتوبر سن 2019 میں شام کے ایک مقام پر خصوصی امریکی فوجی مشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جاسم کی گرفتاری کو بچی کُھچی داعش کے لیے ایک شدید دہچکا قرار دیا گیا ہے۔

اسلامک اسٹیٹ کو قابو کرنے میں امریکی تعاون درکار نہیں، طالبان

عراقی وزیر اعظم کا اعلان

عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی کہ داعش کے ایک سینیئر رہنما سمی جاسم الجبوری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عراقی وزیر اعظم نے اس گرفتاری کا سہرا ملکی خفیہ اداروں کو دیا ہے۔

IS-Chef Abu Bakr al-Bagdadi

سمی جاسم الجبوری اسلامک اسٹیٹ کے عروج کے دور میں لیڈر ابوبکر البغدادی کا دست راست اور انتہائی قریبی رفیق قرار دیا جاتا ہے

الکاظمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ الجبوری کو عراقی سرحدوں سے باہر سے ایک انتہائی پیچیدہ ایکسٹرنل آپریشن کے دوران تحویل میں لیا گیا۔ اس بیان میں مصطفیٰ الکاظمی نے اس مقام کا تذکرہ نہیں کیا جہاں سے الجبوری کو گرفتار کیا گیا ہے

۔طالبان کا داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

 ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ پیچیدہ آپریشن عراق فوج نے آیا ترک سرحد کے اندر کیا تھا۔ اس کی بھی تصدیق نہیں کی گئی کہ اس ایکسٹرنل آپریشن میں ترک فوجی دستے بھی شامل تھے۔ ترک دارالحکومت انقرہ سے بھی اس بابت کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

داعش کا وزیر خزانہ

سمی جاسم الجبوری کو کئی جہادی حلقے اسلامک اسٹیٹ یا دولتِ اسلامیہ کا وزیر خزانہ قرار دیتے تھے۔ ان کی نگرانی میں عراق کے داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں ایسے مالی آپریشن جاری رکھے گئے جن سے داعش کی دولت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

ان آپریشن میں تیل اور گیس کی بلیک مارکیٹوں میں غیر قانونی فروخت بھی شامل تھی۔ فروخت کے اس غیر قانونی عمل میں قیمتی پتھر اور تاریخی نوادرات کو بیچنا بھی شامل تھا۔

وہ سن 2014  کے بعد سے داعش کی عراق میں مکمل شکست (سن 2017 کے اواخر) تک نام نہاد خلافت کے لیڈر ابوبکر البغدادی کی رفاقت میں سرگرم رہے تھے۔ شام کے مقام الرقہ، جو اس نام نہاد خلافت کا مرکز تھا، میں کرد عسکریت پسندوں نے اس جہادی گروپ کو مکمل شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔

Amnesty International l Krieg in Syrien zerstört große Teile von Raqa

داعش کی نام نہاد خلافت کا مرکز الرقہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد

امریکا کی مقرر کردہ سر کی قیمت

ستمبر سن 2015 میں امریکی وزارتِ خزانہ نے سمی جاسم الجبوری کے سر کی قیمت پانچ لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔ اس کے علاوہ الجبوری کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل کر دیا گیا تھا۔ 

برطانیہ میں داعش کے بڑے حملوں کا خطرہ ہے، برطانوی اہلکار

مختلف عسکری ذرائع کے مطابق پہلے ہی مسلسل کمزور ہوتی داعش کو شدید مالی مسائل کا سامنا ہے اور اب الجبوری کی گرفتاری کے بعد اس جہادی گروپ کی رہی سہی طاقت بھی زمین بوس ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تمام کارروائیاں مقامی نوعیت کی ہو کر رہ گئی ہیں۔

ع ح/ع ت (روئٹرز، اے ایف پی)