’خوش آمدید، خواتین و حضرات!‘ اب یوں استقبال نہیں کیا جائے گا | معاشرہ | DW | 28.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’خوش آمدید، خواتین و حضرات!‘ اب یوں استقبال نہیں کیا جائے گا

’خوش آمدید، خواتین و حضرات!‘ دنیا کے اکثر معاشروں میں مہمانوں کا خوشی سے استقبال کرنے کا روایتی طریقہ اب تک یہی ہے۔ مگر چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کی جاپان ایئر لائن آئندہ اپنے مہمانوں کا خیر مقدم یوں نہیں کرے گی۔

جاپان ایئر لائن (JAL) نے آج پیر اٹھائیس ستمبر کے روز کہا کہ اس کی مسافر پروازوں کے لیے طیاروں میں سوار ہونے پر مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے جمعرات یکم اکتوبر سے 'خوش آمدید، خواتین و حضرات‘ نہیں کہا جائے گا۔

عشروں سے استعمال کیے جانے والے ان خیر مقدمی الفاظ کے بجائے اس ایئر لائن نے اب اکتوبر کے شروع سے اس کے عملے کی طرف سے بولے جانے والے یا ریکارڈ کیے گئے لیکن ایسے استقبالیہ کلمات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے ذریعے مہمانوں میں ان کی صنف کی بنیاد پر کوئی فرق نہیں کیا جا سکے گا۔

'خواتین و حضرات‘ کہنا بھی تعصب؟

جاپان ایئر لائن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ آئندہ 'خواتین  وحضرات‘ کے بجائے معزز مہمانان وغیرہ جیسے کلمات استعمال کیے جائیں گے تا کہ مہمانوں کا انسانی بنیادوں پر احترام کرتے ہوئے صنفی تفریق کے باعث پیدا ہونے والی کسی بھی متعصبانہ صورت حال سے بچا جا سکے۔

اس فضائی کمپنی کا موقف ہے کہ اگر جاپانی زبان میں 'گڈ مارننگ‘ اور 'گڈ ایوننگ‘ کے متبادل کے طور پر بولے جانے والے الفاظ میں بھی کسی انسان کی صنف سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تو 'خواتین و حضرات‘ کہہ کر فضائی مسافروں میں مرد، عورت، ہم جنس پرست، یا ٹرانس جینڈر ہونے کی بنیاد پر کوئی تفریق کیوں کی جائے؟

’’اسی لیے یہ ایئر لائن آج سے تین دن بعد مسافروں کے لیے صرف ایسے استقبالیہ کلمات استعمال کیا کرے گی، جو 'جینڈر نیوٹرل‘ یعنی ہر کسی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہوں۔‘‘

جاپان ایئر لائن ایسے فیصلوں میں سب سے آگے

جاپان ایئر لائن کو مشرق بعید کے اس ملک میں ایسے فیصلے کرنے والے اولین کمرشل اداروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ فضائی کمپنی ایسے اقدامات بھی کر چکی ہے، جن کا مقصد بالواسطہ طور پر ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے جوڑوں کے مفادات کے منافی فیصلوں کی منسوخی تھا۔

ایسا ایک فیصلہ شادی شدہ جوڑوں اور ان کے خاندانوں کو فضائی سفر کے لیے کرائے دی جانے والی رعایتوں کی وہ منسوخی تھا، جسے ہم جنس پرست جوڑوں کے ساتھ ناانصافی قرار دے دیا گیا تھا۔

اسی طرح گزشتہ برس اس کمپنی نے صرف ہم جنس پرست جوڑوں اور ان کے گھرانوں کے لیے ایک تجرباتی پرواز بھی شروع کی تھی۔

جاپان میں ہم جنس پرست افراد کی آپس میں شادی کو اب تک قانوناﹰ کسی مرد اور خاتون کی آپس میں روایتی شادی کے برابر تسلیم نہیں کیا گیا۔

تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران توکیو حکومت نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں، جن کے ذریعے ہم جنس پرست، دوہری جنس والے اور ٹرانس جینڈر شہریوں کے حقوق کی قانونی اور سماجی صورت حال کافی بہتر بنائی جا چکی ہے۔

م م / ا ا (اے ایف پی)

DW.COM