خودکش کار بم حملہ، چھ افغان فوجی مارے گئے | حالات حاضرہ | DW | 26.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

خودکش کار بم حملہ، چھ افغان فوجی مارے گئے

افغانستان کے شمالی حصے میں واقع ایک افغان فوجی اڈے پر ایک طاقتور خودکش کار بم حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افغان فوجی مارے گئے ہیں۔ افغان وزارت دفاع نے اس حملے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خودکش کار بم حملے کے فوری بعد مسلح افراد نے اس فوجی کپماؤنڈ پر حملہ کیا جس کے بعد افغان فوجیوں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

افغان وزارت دفاع کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری فوری طور  پر کسی نے قبول نہیں کی اور یہ کہ کار بم دھماکے اور پھر دہشت گردوں کے حملے کے سبب متعدد افغان فوجی زخمی بھی ہوئے۔

افغان صوبہ بلخ کے گورنر کے ترجمان منیر فرہاد کے مطابق فوجی کمپاؤنڈ کے اندر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد حملہ آوروں کو پسپا کر دیا گیا۔

Afghanistan Anschlag US-Militärstützpunkt Bagram

افغان طالبان قریب روزانہ کی بنیاد پر افغان اور امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

طالبان کی طرف سے حالیہ دنوں کے دوران کئی مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔ منگل کے روز انہوں نے صوبہ بلخ کے ضلع دولت آباد میں ایک آرمی چیک پوائنٹ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم سات فوجی مارے گئے تھے جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان نے چار افغان فوجیوں کو یرغمال بھی بنایا ہے جبکہ چیک پوائنٹ پر موجود اسلحہ و بارود پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

بلخ کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی افغان سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔ افغانستان کے مشرقی صوبہ خوست ميں سڑک کنارے نصب ايک بم پھٹنے سے پانچ شہری زخمی ہوئے۔ اسی طرح غزنی ميں بھی طالبان نے ايک حفاظتی چوکی کو نشانہ بنايا، جس ميں دو فوجی ہلاک ہوئے۔

صوبہ قندوز ميں سکيورٹی فورسز اور باغيوں کے درميان فائرنگ کے تبادلے ميں ايک فوجی مارا گيا۔ ان مختلف حملوں ميں درجنوں فوجی اور شہری زخمی بھی ہوئے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طالبان اس وقت افغانستان کے نصف سے زائد حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں جبکہ وہ قریب روزانہ کی بنیاد پر افغان اور امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صورتحال اس مذاکراتی عمل کے دوران بھی جاری رہی جو افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان ہوتا رہا ہے۔

ا ب ا / ع ح (ایسوسی ایٹڈ پریس)

DW.COM