خودکشی، ریپ اور قتل کے وقت کتاب بینی کا کون سوچتا ہے؟ | دستک | DW | 03.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

خودکشی، ریپ اور قتل کے وقت کتاب بینی کا کون سوچتا ہے؟

پاکستانی صدر عارف علوی نے اکتیس جنوری کو اپنی ایک یوٹیوب ویڈیو میں ملک میں کتاب بینی کی حوصلہ افزائی کے لیے پاکستانیوں کو دس ایسی کتابوں کے نام تجویز کیے جو ان کے بقول اس سال پڑھی جانا چاہییں۔

پاکستانی صدر عارف علوی نے اکتیس جنوری کو اپنی ایک یوٹیوب ویڈیو میں ملک میں کتاب بینی کی حوصلہ افزائی کے لیے پاکستانیوں کو دس ایسی کتابوں کے نام تجویز کیے جو ان کے بقول اس سال پڑھی جانا چاہییں۔

یہ تجویز غلط نہیں مگر بےمحل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس صدارتی تجویز کو اس لیے بےمحل کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک ایسی شخصیت نے پیش کی، جن کا سربراہ مملکت کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا۔ آج کے پاکستان میں اگر یہ ویڈیو ڈاکٹر عارف علوی کے بجائے پاکستان پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والا کوئی سربراہ مملکت یا سربراہ حکومت جاری کرتا، تو بھی یہ اتنی ہی بےمحل ہوتی۔

پاکستانی عوام کی اکثریت  کو اس وقت ایسے کسی صدارتی مشورے کے بجائے جرائم، غربت اور مہنگائی کے خلاف تحفظ کی ضرورت ہے۔ جب کسی کا ریپ یا قتل ہو رہا ہو یا شہری بھوک اور مہنگائی کے باعث خودکشیاں کر رہے ہوں، بہت کم شرح خواندگی اور بہت زیادہ بے روزگاری والے ملک پاکستان کے جرائم زدہ معاشرے میں کیا وہ یہ سوچتے ہوں گے کہ انہیں کون سی کتاب پڑھنا چاہیے؟

جس ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہ جاتے ہوں اور اس سے بھی زیادہ تعداد میں شہری ناخواندگی کی زندگی گزار رہے ہوں، وہاں حکمرانوں کو یہ فکر تو ہونا چاہیے کہ شرح خواندگی میں اضافہ ہو اور اسکول جانے کی عمر کا کوئی لڑکا یا لڑکی اسکول میں تعلیم سے محروم نہ رہے۔ 

لیکن تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کے لیے حصول تعلیم کو یقینی بنانے کی خاطر یہ بھی تو ضروری ہے کہ پہلے انہی میں سے ﺍن کئی ملین نابالغ شہریوں کو کم عمری کی اس مشقت سے تو نجات دلائی جائے، جو اس لیے ان کی مجبوری بن چکی ہے کہ وہ اور ان کے اہل خانہ زندہ رہ سکیں۔

پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ اس کی خراب اقتصادی صورت حال ہے۔ کیا حکمرانوں کو یہ یاد کرانے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ نصف صدی سے بھی زائد عرصے میں پہلی بار ملکی معیشت میں ترقی کی شرح منفی رہی ہے۔ پاکستان کے سوا دو کروڑ سے زائد مزدور ایسے معاشی شعبے میں کام کرتے ہیں جسے انفارمل اکنامک سیکٹر کہا جاتا ہے۔ ان کی بڑی اکثریت کو کورونا وائرس کی وبا کے نتائج اور اقتصادی بدحالی کے باعث جان کے لالے پڑے ہیں۔

عام شہری بہت زیادہ مہنگائی اور افراط زر کی وجہ سے بھی شدید پریشان ہیں۔ اجرتوں میں اضافہ نہیں ہو رہا، پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد کا المیہ یہ ہے کہ ان کی آمدنی ان کے زندہ رہنے کے لیے کم از کم لازمی اخراجات بھی پورے نہیں کرتی۔ ملک میں رشوت اور بدعنوانی عام ہیں، یہ سن کر پاکستانیوں کی اکثریت افسوس کا اظہار تو کرتی ہے لیکن ان تلخ حقائق سے انکار کوئی نہیں کر سکتا۔ رہی بات بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کی، تو ان کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

موجودہ پاکستانی حکومت اقتدار میں بالکل نئی تو نہیں ہے۔ اس نے اگر کوئی حقیقت پسندانہ، نتیجہ خیز اور دور رس اثرات کی حامل مالیاتی اور معاشی پالیسیاں بنائی تھیں، تو ان کے عوام کے لیے کسی حد تک سکون کا سبب بننے والے کچھ نہ کچھ نتائج تو اب تک سامنے آنا ہی چاہیے تھے۔

سچ یہ ہے کہ پاکستان میں ایک چھوٹی سی اقلیت کے پاس مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ یہاں یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ آیا یہ وسائل جائز اور قانونی ذرائع سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف عوام میں بہت بڑی اکثریت ایسی ہے جس کے پاس فی کس بنیادوں پر مالی وسائل کی شدید قلت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے کروڑوں پاکستانیوں کی سماجی حالت میں بہتری کے لیے ان کی عملی مدد کرنے کے بجائے انہیں کتاب بینی کا مشورہ دینا ایک آئیڈیلسٹ سوچ ہے یا حقیقت پسندانہ تجویز؟

دانش ور طبقے اور سماجی اشرافیہ کو چھوڑ دیں۔ موجودہ حالات میں پاکستانیوں کو کتاب بینی کا مشورہ دینا ایسے ہی ہے، جیسے انہیں کہا جائے کہ بھوک لگنے کی صورت میں انہین اپنے لیے میکڈونلڈز کا کون سے مینیو منتخب کرنا چاہیے۔ پاکستان میں میکڈونلڈز کا فاسٹ فوڈ کھا کر زندہ رہنے والوں کی تعداد انتہائی تھوڑی سی ہو گی، لیکن وہ جن کے لیے دو قت کی روکھی سوکھی کھا کر پیٹ بھرنا بھی روزانہ لڑی جانے والی بقا کی جنگ بن چکی ہے، ان کی تعداد تو بہت ہی زیادہ ہے۔

صدر عارف علوی کو کتاب بینی سے متعلق اپنی یوٹیوب ویڈیو جاری کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ وہ پاکستانیوں کی صرف اس چھوٹی سے اقلیت کے صدر نہیں ہیں، جسے بہت زیادہ مہنگائی یا کسی قسم کے بحرانی حالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عارف علوی تمام پاکستانیوں کے صدر، ان کے بنیادی آئینی حقوق کے اعلیٰ ترین محافظ اور ان کے ساتھ سماجی انصاف کے ضامن ہیں۔ ان ‘تمام پاکستانیوں' میں بہت بڑی اکثریت ان کی ہے، جنہیں جرائم، مہنگائی، بے روزگاری اور محرومی مارتے جا رہے ہیں۔

وہ معاشرے جن میں ریاست اپنے شہریوں کے لیے ماں کا کردار ادا کرتی ہے، ان میں حکمران اپنے ملک کے ‘نعمت زدہ' طبقے کے بارے میں کچھ بھی سوچنے یا کرنے سے پہلے ‘مصیبت زدہ' طبقات کے مسائل کے ازالے کی کوشش کرتے ہیں۔