1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Mexiko | COVID-Impfung bei Schwangeren
تصویر: Gerardo Vieyra/NurPhoto/picture alliance
معاشرہبرطانیہ

خواتین کی طویل کووڈ سے شفایابی کا امکان کم، نئی تحقیق

27 اپریل 2022

برطانیہ میں نئی تحقیق کے مطابق کورونا کی وبا کی علامات طویل المدتی ہو سکتی ہیں۔ ریسرچ کے نتائج کے مطابق خواتین اور فربہ افراد کے کورونا وائرس کی طویل المدتی علامات یا لانگ کووڈ سے صحتیابی کے امکانات نسبتاﹰ کم ہوتے ہیں۔

https://www.dw.com/ur/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%AA%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B7%D9%88%DB%8C%D9%84-%DA%A9%D9%88%D9%88%DA%88-%D8%B3%DB%92-%D8%B4%D9%81%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D9%85-%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82/a-61608127

خواتین اور فربہ جسم والے افراد طویل عرصے تک کورونا وائرس کی علامات کا شکار رہ سکتے ہیں۔ ایک نئی برطانوی تحقیق کے نتائج کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ ایک تہائی سے زائد افراد لانگ کووڈ کی علامات کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے افراد میں اکثریت خواتین اور زیادہ بھاری جسم والے شہریوں کی تھی۔

لینسیٹ ریسپیریٹری میڈیسن نامی طبی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والے نتائج میں اس تحقیق کی شریک رہنما اور یونیورسٹی آف لیسٹر کے ماہر کرسٹوفر برائٹلنگ نے لکھا ہے، ''مؤثر علاج کے بغیر طویل کووڈ ایک طویل المدتی علامات والی بیماری بن سکتی ہے۔‘‘

مطالعے سے کیا بات سامنے آئی؟

اس تحقیق میں مجموعی طور پر 2,300 سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا، جو کورونا وائرس کی انفیکشن کے باعث  ہسپتال میں داخل تھے۔ ان میں سے صرف  26 فیصد ایسے تھے،جو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے پانچ ماہ کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہوئے۔تقریباﹰ 29 فیصد تعداد ایسے مریضوں کی تھی، جو کووڈ انیس سے متاثر ہونے کے پورے ایک سال بعد خود کو پوری طرح صحتیاب محسوس کر رہے تھے۔

عورتيں کورونا وبا کی ہيرو

اس ریسرچ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں مکمل صحتیابی کا امکان 33 فیصد کم ہے، خصوصاﹰ ان میں جنہیں ہسپتال میں دوران علاج وینٹیلیٹرز پر رکھا گیا تھا۔ اس پوری صورت حال میں موٹاپے کا شکار افراد سب سے زیادہ خطرے میں رہے۔

کورونا وائرس کی وبا کا شکار افراد میں پائی جانے والی سب سے عام علامات سانس لینے میں تکلیف، تھکاوٹ، پٹھوں میں درد، نیند کے مسائل، اعضاء کی کمزوری اور دماغی صحت میں خرابی شامل ہوتی ہیں۔

کرسٹوفر برائٹلنگ کے مطابق، ’’مریضوں کی اس بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کا مقابلہ کرنے اور ان کی مناسب دیکھ بھال کی فوری ضرورت ہے۔‘‘

محقیقن کے مطابق ہسپتال چھوڑنے کے ایک سال بعد تک بھی بہت سے مریضوں میں لمبے عرصے تک کووڈ انیس کی شدید علامات دیکھنے میں آتی ہیں، جن میں ورزش کی صلاحیت میں کمی اور صحت سے متعلق معیار زندگی میں گراوٹ نمایاں ہیں۔

ٹموتھی جونز (ر ب / م م)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

پرویز الٰہی دوراہے پر: تحریک انصاف یا اسٹیبلشمنٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں