خواب کیا ہیں؟ خواب کیوں ہیں؟ | سائنس اور ماحول | DW | 13.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

خواب کیا ہیں؟ خواب کیوں ہیں؟

خواب دماغ کا وہ جادو ہے جو کسی صحت مند انسان کے لیے عموماﹰ تب تک حقیقت رہتا ہے، جب تک آنکھ نہ کھل جائے۔

نیند میں کچھ مرحلے ایسے آتے ہیں، جب خواب بیدار ہو جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ یہ عمل نیند کے اس مرحلے پر پیدا ہوتا ہے جسے REM کہتے ہیں۔ ریم سلیپ کا مطلب ہے نیند کا وہ پل جب انسانی آنکھوں کی پلتلیاں تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ اس لمحے میں آنے والا خواب عموماﹰ سب سے زیادہ 'حقیقت‘ دکھنے والا بھی ہوتا ہے اور یہی خواب عموماﹰ کبھی یاد بھی نہیں رہتا۔

جسم کے لیے نیند کی اہمیت سے متعلق بہت سی تحقیق کی جا چکی ہے۔ نیند میٹابولزم (خلیات کے بننے اور ٹوٹنے کا عمل)، فشار خون، دماغی سرگرمی اور جسمانی صحت کے دیگر امور کے انتظام و بہتری سے جڑی ہے، تاہم خوابوں سے متعلق اب تک انسانی معلومات خاصی محدود ہے۔

جب آپ جاگتے ہیں اور کچھ سوچتے ہیں، تو ایسے میں یہ خیالات کسی منطق کے حامل ہوتے ہیں، مگر جب آپ عالمِ نیند میں ہوتے ہیں، تو دماغ جاگ رہا ہوتا اور ایسے میں پیدا ہونے والے خیالات (جنہیں ہم خواب کہتے ہیں) یہ جذباتی بنیادوں پر بنتے ہوتے ہیں اور منطقی دائروں پر قائم نہیں ہوتے۔

خواب آتے کیوں ہیں؟ نہ آئیں تو کیا ہو؟

حقیقی دنیا سے زیادہ پیچیدہ، خواب کی دنیا

گو کہ اب تک حتمی ثبوت موجود نہیں ہیں، تاہم سمجھا یہی جاتا ہے کہ خواب عموماﹰ آپ بیتی کا شاخسانہ ہوتے ہیں، جس میں زیادہ تر آپ کی تازہ سرگرمیوں، گفتگو اور زندگی سے جڑے امور آپ کے سامنے آتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے تعریف و تشرح کے لیے کئی طرح کے نظریات موجود ہیں۔

خوابوں کا کردار

محققین اب تک خوابوں کی ٹھوس وجوہ پر مکمل طور پر متفق نہیں ہیں، تاہم اس حوالے سے کچھ نظریات اور اندازے موجود ہیں۔

خواب کہ جیسے معالج

ہو سکتا ہے خواب آپ کی زندگی میں جاری جذباتی کہانی سے نمٹنے کا نام ہوں۔ چوں کہ بیداری کے مقابلے میں عالم خواب میں دماغ کہیں زیادہ بلند جذباتی سطح پر ہوتا ہے، ایسے میں وہ احساس اور شعور کے درمیان تعلق بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یا جذبوں کے ٹوٹے ٹکڑوں کو منطق، دلیل یا فکر کے ہاتھوں سے جوڑنے کی بجائے جذبات کے پوروں سے جوڑ کر کوئی شکل بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وہ کام ہے، جو شاید آپ جاگتے ہوئے کبھی نہ کر پائیں۔

لڑائی یا لڑائی کی تربیت

سوتے ہوئے دماغ کا وہ حصہ سب سے زیادہ متحرک ہوتا ہے جو لڑائی یا لڑائی کے ردعمل سے متعلق ہے۔ دماغ کے اس حصے کو ایمی گالا کہتے ہیں۔ دماغ کا یہ حصہ ہماری بقا کی جبلت سے وابستہ ہے۔

ایک نظریے کے مطابق ایمی گالا عالم بیداری کے مقابلے میں عالم خواب میں کہیں زیادہ متحرک ہوتا ہے۔ شاید یہ حصہ نیند میں آپ کو بقا کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:12

کیا سبھی جانور سوتے ہیں؟

خوش قسمتی سمجھیے کہ جب یہ حصہ متحرک ہوتا ہے، تو برین اسٹیم سے اعصاب کو ہدایات جاری ہوتی ہیں کہ پٹھے سکون میں رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ سوتے ہوئے مکوں اور ٹھوکروں کی بارش کرتے نظر نہیں آتے۔ یہ ہدایت جاری نہ ہو، تو آپ مکا یا لات ہوا میں لہرا دیں گے۔

خوابوں کے دیگر افعال

خواب سے متعلق ایک نظریہ یہ بتاتا ہے کہ یہ انسانوں میں تخلیقی رجحانات میں بھی مدد گار ہیں۔ تمام فنونِ لطیفہ سے جڑے افراد اپنے بہت سے شاہکار کاموں کا کریڈٹ اپنے خوابوں کو دیتے ہیں۔

اسی طرح خوابوں سے متعلق یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ وہ یادداشت کے معاون ہیں۔ ان کے ذریعے آپ اہم معلومات کو ذخیرہ کرتے ہیں اور غیر ضروری چیزوں سے جان چھڑاتے ہیں۔