خلیفہ حفتر کی حامی فورسز طرابلس پہنچ گئیں | حالات حاضرہ | DW | 05.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

خلیفہ حفتر کی حامی فورسز طرابلس پہنچ گئیں

خلیفہ حفتر کی حامی فورسز لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے فقط تیس کلومیٹر دور سکیورٹی رکاوٹوں کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ عالمی برادری نے خلیفہ حفتر کو کسی بھی عسکری کارروائی سے دور رہنے کا کہا ہے۔

خلیفہ حفتر کی خودساختہ ’لیبیئن نیشنل آرمی‘ کے آپریشنز کے شعبے کے سربراہ جنرل عبدالسلام نے کہا ہے کہ ان کی فوج نے بغیر کسی لڑائی کے طرابلس کے قریب متعدد سکیورٹی ناکے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔

حفتر کی فورسز نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کے مغربی حصوں میں’دہشت گردوں اور مسلح گروہوں‘ کے خلاف کارروائی کرنے والی ہیں۔ ان فورسز نے رواں برس کے اوائل میں ملک کے متعدد جنوبی علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔

لیبیا میں جمعے کی نماز کے دوران مسجد میں دو بم دھماکے

فرانسیسی وزیر خارجہ لیبیا میں، امن ڈیل کو وسعت دینے کا امکان

بتایا گیا ہے کہ درجنوں با وردی افراد اور کم از کم 15 ٹرک جن پر طیارہ شکن توپین بھی نصب ہیں، طرابلس سے صرف 27 کلومیٹر دور واقعے کنٹرول پوائنٹ ’پل 27‘ پر قابض ہو چکی ہیں۔ یہ علاقہ لیبیا کی بین الاقوامی طور پر مسلمہ اتحادی حکومت کے انتظام میں آتا ہے۔

دوسری جانب طرابلس تحفظ فورس کے جنگجوؤں کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ حفتر کی فورسز کو روکنے کے لیے عسکری پیش قدمی کرے گے۔ طرابلس تحفظ فورس لیبیا کے مغربی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف مسلح گروہوں نے اتحاد کر کے قائم کی گئی ہے۔

لیبیا میں یونٹی حکومت کے سربراہ فیاض السراج نے خلیفہ حفتر کی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’اشتعال انگیزی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے اپنی حامی فورسز سے کہا ہے کہ وہ ’تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار‘ رہیں۔

جمعرات کے روز اپنے ایک آڈیو پیغام میں خلیفہ حفتر نے کہا، ’’وقت آ گیا ہے کہ ملک کے شہریوں اور اداروں کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائی کی جائے۔‘‘

لیبیا کے خلیفہ ہفتر ایک دور میں معمر قذافی کے انتہائی وفادار سمجھے جاتے تھے مگر پھر امریکی حمایت میں وہ قذافی مخالف سرگرمیوں میں پیش پیش رہے اور اب یہ جنرل ملک کے مستقبل میں ایک کلیدی اثرورسوخ کی حامل شخصیت کہلاتا ہے۔ خلیفہ حفتر لیبیئن نیشنل آرمی کی سربراہی کر رہے ہیں۔ لیبیا میں خانہ جنگی کے بعد خود ساختہ لیبیئن نیشنل آرمی نے ملک کی کئی اہم آئل فیلڈز اور برآمدی ٹرمینلز پر قبضہ کر لیا تھا اور یہ ملک کے مشرقی کے علاقوں میں ایک متوازی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

فوجی افسر کے بہ طور حفتر نے سن 1969میں لیبیا میں بادشاہ ادریس کے خلاف کرنل معمر قذافی کی عسکری بغاوت میں حصہ لیا تھا اور حکومت کا تختہ الٹنے میں مدد کی تھی۔ سن 1987ء میں لیبیا اور چاڈ کے درمیان ہونے والی لڑائی میں لیبیا کی فوج کی کمان خلیفہ حفتر نے کی تھی تاہم وہ یہ جنگ ہار گئے تھے اور انہیں چاڈ کی فوج نے گرفتار کر لیا تھا۔ بعد میں سن 1990 میں انہیں چاڈ سے امریکا منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ساتھ مل کر قذافی مخالف کارروائیوں میں شامل رہے۔

حفتر نے قریب دو دہائیاں امریکا میں گزاریں اور وہیں انہوں نے قذافی کے قتل کے منصوبوں پر بھی کام کیا۔ حفتر سن 2011ء میں قذافی کے خلاف نیٹو فورسز کی کارروائی کے دوران لیبیا لوٹے اور تب سے وہ متعدد باغی گروہوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے ایک بڑے فوجی کمانڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

ونٹر چیس، ع ت، ع الف (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات