خفیہ راز افشا کرنے والی چیلسی میننگ کی رہائی | حالات حاضرہ | DW | 10.05.2019

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

خفیہ راز افشا کرنے والی چیلسی میننگ کی رہائی

سابقہ امریکی خاتون فوجی اہلکار چیلسی میننگ کو توہین عدالت کے جرم میں دو ماہ کی سزا پوری ہونے پر رہا کر دیا گیا ہے۔ اس خاتون کو ورجینیا کی الیگزینڈریا جیل سے رہائی دی گئی ہے۔

بظاہر چیلسی میننگ کو رہائی تو مل گئی ہے لیکن اس خفیہ راز افشا کرنے والی سابقہ امریکی فوجی کو اگلے ہی ہفتے ایک عدالتی حکم کے تحت ایک اور گرینڈ جیوری کا سامنا ہے۔ میننگ کے وکیل کی جانب سے یہ ابھی سے واضح کر دیا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی کسی بھی جیوری کے سوالات کے جوابات دینے سے گریز کریں گی۔

چیلسی میننگ نے جس جیوری کے سامنے سوالات کے جواب دینے سے انکار کیا تھا، اُس کے قیام کی دستوری مدت بھی دس مئی کو ختم ہو گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر چیلسی نے اگلے ہفتے گرینڈ جیوری کے سوالوں کے جواب دینے سے انکار کیا تو اُنہیں ایک مرتبہ پھر ایسی ہی سزا کا سامنا ہو سکتا ہے۔

چیلسی میننگ کے وکلاء کے مطابق گرینڈ جیوری میں اُن کی مؤکلہ کو ایسے سوالات کا سامنا تھا جن کا تعلق وکی لیکس کو خفیہ فائلوں کی فراہمی سے تھا۔ دوسری جانب یہ بھی ابھی تک واضح نہیں کہ امریکی وفاقی استغاثہ چیلسی میننگ کو جیوری کے سامنے حاضر ہونے کے لیے کیوں مجبور کر رہا ہے۔ جیوری کی کارروائی کے حوالے سے میننگ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بند کمرے میں کی جا رہی ہے اور اس میں شفافیت کم ہو سکتی ہے۔

Berlin Chelsea Manning bei Internetkonferenz re:publica

چیلسی میننگ کو اگلے ہی ہفتے ایک عدالتی حکم کے تحت ایک اور گرینڈ جیوری کا سامنا ہے

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر امریکی حکام وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کی برطانیہ سے حوالگی میں کامیاب ہو گئے تو چیلسی میننگ کا معاملہ پھر سے امریکی ذرائع ابلاغ میں نمایاں حیثیت اختیار کر جائے گا۔

چیلسی میننگ کو سن 2010 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ بغداد میں تعینات تھیں۔ انہوں نے تقریباً سات لاکھ خفیہ امریکی دستاویزات کے علاوہ کئی ویڈیوز بھی وکی لیکس کو فراہم کی تھیں۔ ان میں وہ ویڈیو بھی شامل تھی، جس میں ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کئی عام شہریوں کو گولیاں مار کر ہلاک کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

چیلسی میننگ کی پینتیس برس کی سزا کو سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کم کر کے سات برس کر دیا تھا۔ وہ مئی سن 2017 میں سزا مکمل ہونے پر رہا کی گئی تھیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:34

ایک روسی وکیل جو جنگل میں جا بسا

DW.COM