خام تیل کی پیداوار: اوپیک اجلاس میں ایران کی عدم شرکت | حالات حاضرہ | DW | 17.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خام تیل کی پیداوار: اوپیک اجلاس میں ایران کی عدم شرکت

دنیا کے تیل پیدا کرنے والے ملکوں کا ایک اہم اجلاس آج اتوار کو دوحہ میں ہوا۔ ایران نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اجلاس کو سعودی و ایرانی اختلافات کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا رہا۔

خام تیل کے فی بیرل کی عالمی منڈیوں میں کمی کے رجحان کو روکنے کے لیے خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اوپیک ممالک کے اجلاس کو سعودی عرب اور ایران کے اختلافات نے کسی بڑی فیصلے تک پہنچنے نہیں دیا۔ اجلاس میں تیل کی پیداوار کو کم کرنے کے معاملے پر فوکس کیا جانا تھا مگر اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی سعودی عرب نے اعلان کیا کہ وہ تیل کی پیداوار میں کمی اُس وقت تک نہیں لائے گا جب تک ایران کو پابند نہیں کیا جاتا۔

دوسری جانب ایران نے دوٹوک کہہ دیا کہ وہ دوحہ اجلاس میں اپنا کوئی نمائندہ روانہ نہیں کرے گا۔ قطری دارالحکومت میں ہونے والے اجلاس میں اوپیک ممالک کے پندرہ رکن ریاستوں کے نمائندے شریک تھے۔ اِن کے علاوہ اوپیک کی رکنیت نہ رکھنے والا ملک روس بھی اِس اجلاس میں شریک رہا۔ یہ تمام ممالک رواں برس جنوری کے مہینے کی سطح پر تیل کی پروڈکشن کو منجمد کرنے کی پلاننگ کی سوچ رکھتے ہیں اور اِس باعث وہ عالمی منڈیوں میں موجود اضافی خام تیل کی کھپت کی خواہش چاہتے تھے۔

OPEC Treffen in Wien Delegation Iran

تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کا صدر دفتر ویانا میں ہے

دوحہ اجلاس میں شرکت کی خاطر سعودی عرب کے وزیر تیل علی النعیمی قطر پہنچ چکے ہیں جبکہ ایرانی وزیر تیل بیژان نامدار زنگنہ تہران ہی میں ہیں۔ اجلاس سے قبل ایرانی حکومت کے بیان میں کہا گیا تھا کہ اوپیک میں ایرانی نمائندہ ہی تمام معاملات میں تہران کی نمائندگی کرے گا لیکن آج اتوار کی صبح بیژان نامدار زنگنہ نے دوحہ میٹنگ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اِس اعلان نے اوپیک اجلاس پر ناکامی اور نا اُمیدی کی کالی چادر کو تان دیا۔ زنگنہ نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ اُن کا ملک تیل کی پیداوار کو منجمد کرنے کے کسی فیصلے میں شامل نہیں ہو گا۔

دوسری جانب سعودی عرب کے نائب ولی عہد پرنس محمد بن سلمان نے اپنے تازہ انٹرویو میں واضح کیا کہ اُن کا ملک تہران حکومت کے اوپیک کے ساتھ تعاون کے بغیر خام تیل کی پیداوار کو منجمد کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ اِس اجلاس کے شروع ہونے سے قبل کویت کے وزیر تیل کمال الحرمی نے اشارہ دیا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے بغیر بھی تیل کی پیداوار منجمد کرنے کا فیصلے کا امکان موجود ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا۔ یہ امر اہم ہے کہ اوپیک تنظیم کے رکن ممالک کی خام تیل کی مجموعی یومیہ پیداوار بتیس ملین بیرل سے زائد ہے۔ مبصرین نے بھی دوحہ میٹنگ کے حوالے سے اشارہ دیا تھا کہ اِس اجلاس کا انتہائی محدود اثر ظاہر ہو گا۔

ملتے جلتے مندرجات