’حکومت کے نظریات سے اختلاف بغاوت نہیں‘،بھارتی سپریم کورٹ | حالات حاضرہ | DW | 03.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’حکومت کے نظریات سے اختلاف بغاوت نہیں‘،بھارتی سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ کے مطابق حکومتی نظریات سے اختلاف بغاوت نہیں ہے۔ عدالت نے یہ ریمارکس ایسے وقت دیے ہیں، جب مودی حکومت کی متنازعہ پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے متعدد سماجی کارکن جیلوں میں بند ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بدھ تین مارچ کو ایک اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے نظریات سے اختلاف کو بغاوت نہیں کہا جاسکتا۔ عدالت عظمی نے اسی کے ساتھ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کے خلاف دائر بغاوت کی عرضی مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ نے کہا،”ایسے خیالات کے اظہار کو جو حکومت کے نظریے سے مختلف ہوں ملک سے بغاوت نہیں کہا جا سکتا۔" عدالت نے اسی کے ساتھ عرضی دائر کرنے والے رجت شرما اور نیہا سریواستو پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

معاملہ کیا تھا؟

مودی حکومت کی جانب سے اگست سن 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کر دیے جانے کے حوالے سے ریاست کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کے ایک بیان پر اعتراض کرتے ہوئے رجت شرما اور نیہا سریواستو نامی دو شہریوں نے مفاد عامہ کے تحت ان کے خلاف ملک سے غداری کا کیس دائر کر دیا تھا۔

فاروق عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت اور چین کی افواج کے درمیان لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ آئین کی دفعہ 370 کو ختم کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔چین نے جموں و کشمیر کو دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا تھا، ”جہاں تک چین کا معاملہ ہے تو میں نے چینی صدر کو یہاں نہیں بلایا تھا۔ ہمارے وزیر اعظم نے انہیں گجرات میں مدعو کیا تھا اور ان کے ساتھ جھولا سواری کی تھی۔ وہ (مودی) انہیں اپنے ساتھ چینئی بھی لے گئے اور ان کے ساتھ کھانا کھایا۔"

فاروق عبداللہ کا کہنا تھا”چین نے دفعہ 370کی منسوخی کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک آپ دفعہ 370کو بحال نہیں کریں گے اس وقت تک ہم نہیں رکیں گے۔ ہمارے عوام کو انشاء اللہ ان کی طاقت کی مدد حاصل ہو گی اور دفعہ 370 اور 35 اے دوبارہ بحال ہو جائیں گے۔"

Indien Minister für erneuerbare Energien Farooq Abdullah

فاروق عبداللہ

عرضی گزاروں پر جرمانہ

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی فاروق عبداللہ کے اس بیان کو ملک سے بغاوت کے مترادف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایک سابق وزیر اعلی اور رکن پارلیمان ”چین کی توسیع پسندانہ حرکتوں کو درست قرار دے رہے ہیں۔"

رجت شرما اور نیہا سریواستو نے اپنی عرضی میں دلیل دی تھی کہ فاروق عبداللہ 'ملک دشمن‘ ہیں اور اگر انہیں رکن پارلیمان کے عہدے سے برطرف نہ کیا گیا تو اس سے”بھارت میں ملک دشمن سرگرمیوں کی حمایت ہو گی، جو ملک کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔"

سپریم کورٹ نے تاہم آج تین مارچ کو اس عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ عرضی گزار اپنے الزامات کے حق میں دلائل دینے میں ناکام رہے۔ عدالت نے اسی کے ساتھ ان پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

بغاوت قانون کا غلط استعمال

سن 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے اور بالخصوص سن 2019 میں دوبارہ بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے مودی حکومت پر اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مسلسل الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔

متعدد ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں نے سماجی اور سیاسی کارکنوں کو جیل میں ڈال دینے کے مودی حکومت اور بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کے فیصلوں پر سخت اعتراضات کیے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دیپک گپتا نے گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کی جانب سے بغاوت کے قانون کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اس قانون کا استعمال شہریوں میں خوف پیدا کرنے، اختلاف رائے کو دبانے اور اس کا گلا گھونٹنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ جسٹس دیپک گپتا کا کہنا تھا کہ بدترین صورت حال یہ ہے کہ اس کے غلط استعمال  میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

Hamburg Film Indien Filmfestival 2012

انوراگ کشیئپ

فلم اداکارہ تاپسی پنّو اور فلمساز انوراگ کشیئپ بھی زد میں

ایک تازہ ترین پیش رفت میں بالی وڈ کی ادکارہ تاپسی پنو اور فلم ساز انوراگ کشیئپ کے گھر پر آج انکم ٹیکس والوں نے چھاپے مارے۔

حکومتی ذرائع گو کہ اسے انکم ٹیکس کے ایک کیس سے منسلک قرا ر دے رہے ہیں تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ بالی وڈ کی ان دونوں شخصیات کو حکومت کی بعض پالیسیوں کے خلاف کھل کر اظہار  کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔

اطلاعات و نشریات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے آج ایک پریس کانفرنس میں صفائی دیتے ہوئے کہا،”انکم ٹیکس محکمہ کو جس کے بارے میں جو بھی اطلاعات موصول ہوتی ہیں اس کی بنیاد پر جانچ کی جاتی ہے اور بعد میں معاملہ عدالت میں جاتا ہے۔"

تاپسی پنّو نے متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے مظاہروں کے حق میں پچھلے دنوں متعدد ٹوئٹ کیے تھے۔

DW.COM