حوثی باغیوں کا سعودی تیل تنصیب پر میزائل حملہ | حالات حاضرہ | DW | 24.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

حوثی باغیوں کا سعودی تیل تنصیب پر میزائل حملہ

حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی میزبانی میں جی ٹوئنٹی ورچوئل چوٹی کانفرنس کے انعقاد کے ایک دن بعد ہی بندرگاہی شہر جدہ میں ایک حکومتی تیل تنصیب کوایک نئے کروز میزائل کا نشانہ بنایا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے بندرگاہی شہر جدہ میں تیل کی ایک تنصیب پر پیر کے روز میزائل حملہ کیا جس کے نتیجے میں بڑا دھماکہ ہوا اور تیل ٹینک میں آگ لگ گئی۔

سعودی عرب کے حکومتی ادارے آرامکو کی ایک تیل تنصیب پر یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب چند گھنٹے قبل ہی جی ٹوئنٹی ورچوئل سربراہی اجلاس ختم ہوا تھا۔ تقریباً ایک برس قبل بھی ارامکو کی تیل تنصیبات کو اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا جس کی وجہ سے عالمی تیل منڈی میں اتھل پتھل مچ گئی تھی۔

سعودی وزارت توانائی کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ جدہ کے شمال میں واقع پٹرول اسٹیشن پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں ایک آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم اس آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں آگ بجھانے میں کامیاب ہو گئی ہیں اور اس حملے کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ نیز'دہشت گردی اور تخریب کاری‘ کے اس اقدام کے باوجود ارامکو کے اس اسٹیشن سے تیل کی ترسیل اور فراہمی متاثر نہیں ہوئی ہے۔

Saudi Arabien | Col. Turkey Al Maleky

کرنل ترکی المالکی نے اس حملے کے لیے باغیوں کو موردالزام ٹھہرایا ہے۔

'بزدلانہ حملے سے عالمی معیشت کی سلامتی خطرے میں‘

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف محاذ آرا سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے اس حملے کے لیے باغیوں کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے کہا ”اس بزدلانہ حملے کے ذریعہ نہ صرف مملکت کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی اور عالمی معیشت کی سلامتی کے مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔"

خیال رہے کہ یمنی حکومت کی حمایت میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ جس کے جواب میں باغیوں نے پچھلے سال سے پڑوسی ملک سعودی عرب کے بالخصوص جنوبی سرحد سے ملحق صوبوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ حوثیوں نے پیر کے روز کیے گئے حملے میں قدس۔2  قسم کے میزائل استعمال کیے۔

حوثیوں کی مسلح ونگ کے ترجمان یحییٰ ساری نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کی 'میزائل فورس‘ نے آرامکو کے تیل کی سپلائی کے ایک اسٹیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'قدس۔2 قسم کے میزائل نے اپنے ہدف کو اچوک نشانہ بنایا اور سعودی ایمبولنسیز اور آگ بجھانے والی گاڑیاں متاثرہ مقام پر جاتی ہوئی دیکھی گئیں۔"

بریگیڈیئر جنرل یحیٰ ساری نے اسی کے ساتھ ٹوئٹر پر ایک سیٹلائٹ امیج بھی پوسٹ کی ہے جو شمالی جدہ میں آرامکو کے تیل پلانٹ سے مماثل ہے اور جہاں پٹرولیم مصنوعات ٹینکوں میں بھرے جاتے ہیں۔ یہ تنصیب جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوای ہوائی اڈے کے جنوب مشرق کے قریب واقع ہے۔

اقوام متحدہ نے سویلین تنصیب پر حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

حوثیوں کو دہشت گردتنظیم قراردینے پرغور

دریں اثنا امریکی قومی سلامتی مشیر رابرٹ او برائن نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے پاس یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے نمٹنے کے لیے تمام متبادل کھلے ہیں۔

انہوں نے فلپائن کے دورے کے موقع پر صحافیوں کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کو مستقل بنیادوں پر دہشت گرد تنظیم قرار دینے پرغور کر رہا ہے۔ انہوں نے حوثیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایران سے اپنا تعلق ختم کریں اور ہمسایہ ممالک پر حملوں کا سلسلہ بند کریں۔ او برائن نے مزید کہا کہ واشنگٹن صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

ج ا/   (اے پی، اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 02:31

تیل کی قیمت کیوں گرتی ہے؟

DW.COM