حوثیوں کا جدہ میں ارامکو تیل تنصیب پر میزائل حملہ | حالات حاضرہ | DW | 04.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

حوثیوں کا جدہ میں ارامکو تیل تنصیب پر میزائل حملہ

سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ حوثیوں کے ذریعہ جنوبی شہر جازان کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

یمن کے حوثی باغیوں نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں سعودی عرب کی ارامکو کمپنی کی تیل تنصیبات کو میزائل کا نشانہ بنایا ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری میڈیا کی طرف سے شائع ایک بیان میں تاہم کہا گیا ہے کہ سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیر جنرل یحی ساری نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا کہ باغیوں نے ارامکو تیل تنصیب کو نئی قسم کی قدس۔2 کروز میزائل کا نشانہ بنا یا۔ انہوں نے ایک سیٹلائٹ تصویر بھی منسلک کی ہے جو شمالی جدہ میں ارامکو کی تیل تنصیبات سے مشابہ ہے۔ یہاں ٹینکوں میں تیل کا ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اس سے قبل گزشتہ نومبر میں بھی اسی تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔ سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد نے بعد میں تسلیم کیا تھا کہ اس پلانٹ کے ایک حصے کو آگ لگ گئی تھی۔

یہ پلانٹ جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے کے جنوب مشرق کے قریب واقع ہے۔ مکّہ میں خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے آنے والے بڑی تعداد میں زائرین اس ہوائی اڈے کا استعمال کرتے ہیں۔

Saudi-Arabien Drohnenangriffe

ارامکو تیل تنصیب پر2019 میں حوثیوں کے حملے کے بعد اٹھتے ہوئے دھوئیں کے بادل

ہوائی جہازوں کی آمد و رفت پر نگاہ رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ رڈار 24 ڈاٹ کام کے مطابق جدہ ہوائی اڈے کے لیے آنے والی تمام پروازوں کو جمعرات کے روز دوسرے شہروں کی طرف موڑ دیا گیا لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

جدہ میں واقع امریکی قونصل خانے نے ارامکو تیل تنصیبات پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی شہریوں کے لیے وارننگ جاری کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی ہلاکت سے واقف نہیں ہے تاہم امریکی شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ”کسی حملے کی صورت میں فوری احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیں۔"

حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی شہروں پر سرحد پار سے ڈرون اور میزائل حملے تیز کر دیے ہیں۔ ان حملوں میں بالعموم سعودی عرب کے جنوبی علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ اس نے بیشتر حملوں کو نا کام بنا دیا۔

اس تصادم کو سعودی عرب اور ایران کے مابین خطے میں بالواسطہ جنگ کے طور پر دیکھا جا تا ہے۔ تاہم حوثی ایران کے اشارے پر کام کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی لڑائی بدعنوان نظام کے خلاف ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:20

فاقہ کشی کا شکار یمنی بچے

یمن میں تصادم کا آغاز تقریباً چھ برس قبل ہوا تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت پر دھاوا بول دیا تھا اور ملک کے بیشتر شمالی حصے پر اپنا کنٹرول کر لیا۔ سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد نے حوثیوں سے دارالحکومت کو آزاد کرانے کے لیے بمباری کی مہم شروع کی اور بالآخر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

 اس تصادم کے دوران اب تک بارہ ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ یمن کو دنیا کے بد ترین انسانی بحران اور بھوک مری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف شہریوں کے قتل اور غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے سعودی عرب کو بین الاقوامی نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ج ا/ ص ز  (اے پی، روئٹرز)

DW.COM