جی ٹوئنٹی وزرائے خارجہ کا اجلاس، تمام نگاہیں ٹلرسن پر | حالات حاضرہ | DW | 16.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جی ٹوئنٹی وزرائے خارجہ کا اجلاس، تمام نگاہیں ٹلرسن پر

جی ٹوئنٹی کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس آج سے جرمن شہر بون میں شروع ہو رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کسی اہم کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں، اس لیے تمام نگاہیں ان پر مرکوز ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سابق جرمن دارالحکومت بون میں منعقد ہونے والے اس دو روزہ اجلاس کے دوران ماحولیاتی آلودگی سے لے کر شامی بحران جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ ساتھ ہی افریقہ پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ مہاجرین کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جا سکے۔ اس اجلاس کی اہم بات یہ بھی ہے کہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن پہلی مرتبہ کسی اہم اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔

جی ٹوئنٹی وزرائے خارجہ کا اجلاس، مرکزی ایجنڈا افریقہ

ریکس ٹلرسن امریکا کے نئے وزیر خارجہ، بڑے چیلنجز درپیش

عالمی معیشت پر سر جوڑ کر بیٹھے G20 گروپ کے وُزرائے خزانہ

ناقدین کے مطابق جی ٹوئنٹی کے وزرائے خارجہ اس اجلاس کے حاشیے میں ٹلرسن سے یہ جاننے کی کوشش بھی کریں گے کہ ’امریکا پہلے‘ کا دنیا کے لیے کیا مطلب ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں کامیابی کے بعد عالمگیریت کے خلاف جاری کردہ اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’آئندہ سے سب سے پہلے امریکا ہو گا‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ شمالی امریکی آزادانہ تجارت کے معاہدے سمیت دیگر تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کریں گے تاکہ امریکا کے اندر روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔

اس تناظر میں کئی ممالک نے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا جبکہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے بقول عالمی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی جبکہ عالمی مالیاتی مسائل سے نمٹنے کی خاطر تمام ممالک کو مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہو گا۔ اس مذاکراتی عمل سے قبل جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابرئیل نے بھی کہا کہ دنیا کو لاحق مسائل کے لیے حل کی خاطر کوئی ملک اکیلا کچھ نہیں کر سکتا ہے۔

جی ٹوئنٹی اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن پہلی مرتبہ اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کریں گے۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں سفارتکار ’باہمی دلچپسی کے امور‘ پر تبادلہ خیال کریں گے، جو امریکا کی سابق حکومت کے دوران متاثر ہو گئے تھے۔

اس کانفرنس میں عالمی رہنما شام میں جاری خانہ جنگی اور مشرقی یوکرائن کے تنازعے کے علاوہ دیگر عالمی مسائل پر بھی گفتگو کریں گے۔ جی ٹوئنٹی کے مندوبین اس کانفرنس کے موقع پر اپنی ملاقاتیں بھی جاری رکھیں گے، جن میں باہمی تعلقات اور علاقائی مسائل پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات