جی سیون اجلاس میں چین کی عدم موجودگی، ایک غلطی؟
14 جون 2026
1975 میں جب جی سیون اجلاس کی ابتدا ہوئی تو چین اس کا حصہ نہیں تھا۔ اس وقت جب عالمی طاقتیں فرانس میں دنیا کی گرتی معیشت کے حوالے سے مشاورت میں مصروف تھیں تب چینی انقلابی رہنما ماؤ زے تنگ کو امریکی صدر جیرالڈ فورڈ اور دیگر مغربی رہنماؤں کے ساتھ ایک میز پر دیکھنے کا تصور بھی نا ممکن تھا۔
چین اس وقت شدید انتشار کا شکار تھا۔ ماؤ نے ویتنام میں ہو چی مِنہ کی کمیونسٹ فورسز کی فوجی مدد کرکے فرانس اور امریکہ دونوں کو شکست دینے میں کردار ادا کیا تھا۔ اگر وہ پہلی رامبوئے ملاقات میں شریک ہوتے تو وہ واضح طور پر غیر مطابقت رکھنے والے رہنما ہوتے۔
اب جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کےجی سیون ہم منصب فرانس میں دوبارہ جمع ہو رہے ہیں تو چین کی غیر موجودگی ایک بار پھر ایک تضاد بن گئی ہے کیونکہ آج چین عالمی معیشت اور عالمی معاملات پر بے پناہ اثر رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ چین کے بغیر جی سیون کی موجودہ شکل دنیا کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔
معاشی اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو چین جی سیون کا ایک واضح امیدوار بن سکتا ہے۔ اگر معیار صرف معاشی کامیابی ہو تو چین کب کا اس کلب میں شامل ہو چکا ہوتا۔ ماؤ کی 1976 میں موت کے بعد مسلسل ترقی نے چین کی معیشت کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ جرمنی، جاپان، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا سب کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ اب اسے اس میدان میں صرف امریکہ کا مقابلہ کرنا ہے تو اس لحاظ سے چین کے بغیر جی سیون ایسا ہی ہے جیسے فٹبال ورلڈ کپ میں پانچ بار فاتح رہنے کے باوجود برازیل شامل نہ ہو۔
ٹورنٹو یونیورسٹی کے ماہر جان کرٹن کے مطابق 1975 کا چھوٹا سا پانڈا آج عالمی ڈریگن بن چکا ہے اور یہ سوال جائز ہے کہ کیا جی سیون اور عالمی برادری چین کی عدم موجودگی کو محسوس نہیں کر رہے۔
اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے۔ قواعد اور ضوابط کے حساب سے جی سیون ہمیشہ سے جمہوری ممالک کا فورم رہا ہے۔ گزشتہ سال ٹرمپ نے چین کو شامل کرنے کے خیال کو رد نہیں کیا مگر اصول یہی ہے کہ یہ کلب صرف جمہوریتوں کے لیے ہے۔ 1975کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ رکن ممالک جمہوری اصولوں پر عمل پیرا ہوں جو انفرادی آزادی اور سماجی ترقی کے لیے کام کرتے ہوں۔
ماؤ کے دور میں چین اس معیار پر پورا نہیں اترتا تھا اور صدر شی جن پنگ کے دور میں بھی نہیں۔
ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس اور فریزر انسٹی ٹیوٹ جیسے اداروں کے مطابق شہری آزادیوں کے معاملے میں چین جی سیون ممالک کے مقابلے میں ابھی بہت پیچھے ہے۔
لیکن چین اب جی سیون کے ایجنڈے کا مرکزی موضوع ہے۔ چین کی معاشی طاقت ہر رکن ملک کو متاثر کرتی ہے۔ چین نے 2025 میں تقریباً بارہ سو ارب ڈالر کا ریکارڈ تجارتی سرپلس حاصل کیا۔ وہ اہم معدنیات پر کنٹرول بھی رکھتا ہے۔ ٹیکنالوجی اور فوجی طاقت کے میدان میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
اسی لیے جی سیون کے اس تازہ ترین اجلاس میں چین کی کمی کو محسوس کرنا لازم ہے۔ اس بار کے میزبان ایمانوئل ماکروں نے چینی برآمدات خصوصاً گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ پر مشترکہ حکمت عملی کے لیے وقت مختص کیا ہے۔ ٹرمپ اور دیگر جی سیون رہنماؤں کے درمیان حالیہ عرصے میں ایران جنگ سمیت کئی معاملات پر اختلافات رہے ہیں مگر چین وہ موضوع ہے جس پر سب متفق ہیں کہ یہ ایک مسئلہ ہے۔
چین کی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت پہلے بھی جی سیون کو اخراجی فورم قرار دیتی رہی ہے اور اسے سرد جنگ کی باقیات کہتی رہی ہے۔ مگر اس بار چینی وزارت خارجہ نے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ جی سیون کو تقسیم کو نہیں بلکہ تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔
بیجنگ کے تجزیہ کار وانگ زچن کے مطابق چین جی سیون کو امریکہ کے زیر اثر مغربی طاقتوں کا پلیٹ فارم سمجھتا ہے جہاں چین کو اکثر چیلنج یا خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن چین اسے نظر انداز بھی نہیں کر سکتا کیونکہ جی سیون اب بھی معاشی، ٹیکنالوجی اور فوجی طاقتوں کے موضوع پر بات چیت کے حوالے سے ایک بڑا فورم ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کی شمولیت جی سیون کی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کی وجہ صرف چین کا سیاسی نظام یا روس اور ایران جیسے ممالک پر اس کا مؤقف نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ چین کی موجودگی اتحادیوں کے درمیان دراڑ ڈال سکتی ہے۔
لندن اسکول آف اکنامکس کے کرس ایلڈن کہتے ہیں کہ چین کی شمولیت جی سیون کو مؤثر طریقے سے چلنے نہیں دے گی۔
جی سیون کی آخری توسیع 1998 میں روس کی شمولیت تھی جو خوش آئند ثابت نہیں ہوئی۔ 2014 میں کریمیا پر قبضے کے بعد روس کو اس فورم سے نکال دیا گیا. مگر ناقدین کے مطابق ممکنہ طور پر یہی پیش رفت 2022 میں یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس کو نکالنا بڑی غلطی تھی مگر جان کرٹن کے مطابق اس تجربے نے باقی رہنماؤں کو قائل کر دیا کہ کسی بھی غیر جمہوری ملک کو دوبارہ جی سیون کا مکمل رکن بنانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ادارت: عاطف توقیر