جینیوا کنوینشن کے ستر سال: کیا کھویا کیا پایا؟ | حالات حاضرہ | DW | 12.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جینیوا کنوینشن کے ستر سال: کیا کھویا کیا پایا؟

ستر سال قبل بارہ اگست کے دن دنیا نے جنگی جرائم کی روک تھام سے متعلق ’جینیوا کنوینشن‘ پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے پر کس حد تک عمل ہوا اور یہ سمجھوتا آج کے حالات میں کتنا مؤثر ثابت ہوا؟

’جینیوا کنوینشن‘ دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ اس بین الاقوامی ہیومنٹیریئن قانون کا مقصد جنگی صورتحال میں انسانوں کے ساتھ بہتر سلوک یقینی بنانا ہے۔ تاہم بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ یہ عالمی سمجھوتہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کارگر ثابت نہیں ہو رہا۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کی حامی افواج اور روسی فورسز شام میں گزشتہ آٹھ سالوں سے جاری خانہ جنگی میں دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، جو معاہدہ جینیوا کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

روتھ کے مطابق یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں سعودی فوجی اتحاد شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس لڑائی میں یمنی صدر منصور ہادی کی حامی ان افواج نے مساجد، بازاروں اور حتیٰ کہ سکولوں اور ہسپتالوں پر بھی بمباری کی ہے۔

اسی طرح میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ’فوجی کریک ڈاؤن‘ پر ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی سخت تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے تو یہاں تک بھی کہا کہ روہنگیا مسلمانوں  کے خلاف کارروائیاں ’نسل کُشی‘ کے زمرے میں آتی ہیں۔

ان تمام تنازعات میں جن انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، وہ تمام جینیوا کینوینشن میں شامل ہیں۔ ریڈ کراس سے وابستہ سابق وکیل ہیلن ڈیرہم اتفاق کرتی ہیں کہ ان کے ادارے نے جینیوا کنوینشن کے شقوں کو کئی مرتبہ اور مسلسل پامال ہوتے دیکھا ہے، جو کسی طور قابل قبول نہیں۔

ہیلن ڈیرہم کے مطابق ’اگر ان قوانین کو توڑا جا رہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ قوانین برمحل اور حسب موقع نہیں رہے‘۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بہت سے ایسے کیس ہیں، جن میں انہی قوانین کی وجہ سے جنگوں کے دوران انسانی عزت اور وقار کا تحفظ ممکن بنایا گیا۔

جینیوا کنوینشن کیا ہے؟

جینیوا کنوینشن پر ابتدائی کام سن اٹھارہ سو چونسٹھ میں ہوا۔ اس وقت اس کی توجہ کا مرکز جنگوں میں زخمی ہونے والے فوجیوں کے علاج معالجے اور ان کا خیال رکھنے تھا۔ ان دنوں ریڈ کراس کے بانی ہینری ڈونناٹ نے اس مجوزہ سجھوتے کا خاکہ تیار کیا۔ آنے والی دہائیوں میں مزید جنگیں ہوئیں اور اس معاہدے میں جنگی جرائم کے حولے سے مزید شقیں شامل کی جاتی رہیں۔ بلآخرطویل عالمی مذاکرات کے بعد جینیوا کنوینشن بارہ اگست سن انیس سو انچاس میں طے پا گیا۔

اس کنوینشن میں ایسے چار بین الاقوامی معاہدے شامل ہیں، جن کے تحت یہ یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جنگ کے دوران ایسے لوگوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے جو خود لڑائی میں ملوث نہ ہوں۔ ان میں شہری، طبی عملہ، جنگی قیدی اور ایسے سپاہی بھی شامل ہیں، جو لڑنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔

آج 196 ممالک اس کنوینشن کی توثیق کر چکے ہیں، جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی اس معاہدے کا مبصر رکن ہے۔

جنیوا کنوینشن پر عمل ایک چیلنج

شام کی خانہ جنگی، یمن کا تنازعہ اور میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے موضوعات ایسے ہیں، جن کے باعث اس بین لااقوامی معاہدے کے فعال ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کئی ناقدین کے مطابق دراصل ان قوانین کو مناسب طریقے سے نافذ نہ کر سکنے کی وجہ سے زیادہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو دنیا کے کئی ایسے خطے ہیں، جہاں ان قوانین کا مؤثر انداز میں نفاذ ہوا اور وہاں تنازعات میں انسانی وقار کو یقینی بنایا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ سے منسلک روتھ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ ان قوانین کی بنیاد کو کوئی بھی چیلنج نہیں کر سکتا، ’’کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ شہریوں کو نشانہ بنانا یا بلاتخصیص فائر کرنا درست ہے۔ یہ بنیادی اقدار کا معاملہ ہے۔‘‘

روتھ کے مطابق اس معاہدے کے قوانین میں تبدیلی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے لیے زیادہ سیاسی عزم درکار تاکہ تنازعات میں شریک تمام فریقین یہ بات  یقینی بنائیں کہ ان قوانین کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔

DW.COM