1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Indonesien | Modenschau auf Zebrastreifen in Jakarta
تصویر: Bay Ismoyo/AFP
معاشرہانڈونیشیا

جکارتہ کا فیشن ویک وائرل کیسے ہوا؟

9 اگست 2022

انڈونیشی دارالحکومت کا ایک گنجان آباد علاقہ ٹین ایجرز کی ’کیٹ واک‘ کا مرکز بن چکا ہے۔ جکارتہ کا یہ علاقہ فیشن کے دلدادہ نوجوانوں کا گڑھ تصور کیا جانے لگا ہے تاہم پولیس خوش نہیں ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%AC%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D9%81%DB%8C%D8%B4%D9%86-%D9%88%DB%8C%DA%A9-%DA%A9%DB%8C-%D8%BA%DB%8C%D8%B1-%D9%85%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%84%DB%8C-%D9%85%D9%82%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%8C%D8%AA/a-62756122

جکارتہ ٹریفک سے بھرا وہ شہر ہے، جہاں پیدل چلنے والوں کا سڑک عبور کرنا بہت ہی دشوار گزار کام ہوتا ہے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت  کے بیچ و بیچ فیشن کے پرستاروں کا جمگھٹا مقامی پولیس کے لیے ایک بڑا مسئلہ مگر ٹین ایجرز کی غیر معمولی دلچسپی کا سبب بنا

ہوا ہے۔

جکارتہ کے ڈاؤن ٹاؤن میں اُس رسمی اجتماع نے شہر کے مضافاتی علاقوں بشمول سیتایام کے تمام مُہم جو  فیشن ڈیزائنرز کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے، جسے'' سیتایام فیشن ویک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ہلچل

نوجوانوں کی غیر معمولی دلچسپی کا مرکز بنے ہوئے ٹک ٹاک اور سماجی رابطوں کے ایک پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اس فیشن شو کی ویڈیوز وائرل ہوئیں اور سیتایام سے تعلق رکھنے والے فیشن ڈیزائنرز اور اس شعے سے شغف رکھنے والوں کو راتوں رات بہت زیادہ شہرت ملی گئی۔

پیرس کا فیشن شو، خواتین کی ترقی اور صنفی برابری کے نام

ان انڈونیشی نوجوانوں کو اس کے ذریعے نہ صرف ماڈلنگ کی جابز ملنے لگیں ہیں بلکہ ان کے مداحوں کی تعداد میں انتہا سے زیادہ اضافہ بھی ہوا ہے۔

ایک 18 سالہ طالب علم رکات الفندی نے اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہا، ''مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں میں اپنے فیشن اسٹائل کی اپنے انداز میں تخلیق کر سکتا ہوں اور اس کا بھرپور اظہار کر سکتا ہوں۔ یہ سب کچھ بہت ہی دلچسپ اور تفریح سے بھرپور ہے۔ یہاں اتنے سارے لوگ ہمیں ملتے ہیں اور میں نئے دوست بنا سکتا ہوں۔ میں تو گھر جانا بھی نہیں چاہتا۔‘‘

Indonesien | Modenschau auf Zebrastreifen in Jakarta
جکارتہ ’’سیتایام فیشن ویک‘‘ تصویر: Bay Ismoyo/AFP

'یہ ہمارا حق ہے‘

جکارتہ کا شمار دنیا کے اُن چند ممالک میں ہوتا ہے، جہاں بے شمار فلک بوس عمارتیں، جیدید طرز کے کیفیز اور ماڈرن رستورانوں کی بھرمار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر کے مرکزی علاقوں میں عموماً سڑکوں پر گاڑیاں نہیں چلتیں جبکہ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی ضوابط بنے ہوئے ہیں۔

 

ایسے شہر کے مرکز میں کسی اجتماع کا اہتمام یا جلسے وغیرہ کا انعقاد بہت مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود انڈونیشی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ٹرینوں کا سفر طے کر کے اُس جگہ پہنچ رہی ہے، جہاں اس فیشن شوزُ کا انعقاد ہو رہا ہے۔

اس علاقے میں پولیس پہلے ہی والک کرنے کے راستوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس اہلکار لاؤڈ اسپیکر پر ہجوم کو سڑک سے دور رہنے کی تنبیہ کرتے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاہم پولیس کی کوششیں فیشن کی شائقین ان لڑکیوں کو باز نہیں رکھ سکیں جو چوڑے پائنچوں والی جینز اور رنگین چشمے لگائے '' سیتایام فیشن ویک‘‘ کا حصہ بنیں۔

سعودی عرب پہلے ’عرب فیشن ویک‘ کی میزبانی کرے گا

دوسری طرف نوجوان لڑکے چمڑے کی جیکٹس، اسٹائلش جوتے اور فر کوٹ زیب تن کیے فیشن واک میں شریک ہوئے۔ متعدد نوجوان اس حد تک پُر جوش ہیں کہ وہ رات گئے تک فیشن ویک میں تفریح کرتے ہوئے گھر واپسی کے لیے ٹرین مس کرنے کے بعد فٹ پاتھ پر سوئے تو پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے۔

Indonesien | Modenschau auf Zebrastreifen in Jakarta
انڈونیشی نوجوانوں کے لیے انوکھی کششتصویر: Bay Ismoyo/AFP

اس پولیس کارروائی کے خلاف بیان دیتے ہوئے الفندی نے کہا، ''ہمیں یہاں گھومنے پھرنے کا حق حاصل ہے، یہ ایک عوامی جگہ ہے اور مجھے یہاں آ کر اسکول کے امتحان کے اسٹرس اور ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘

نمائش کیسے مشہور ہوئی؟

 30 ملین کی آبادی والے میگا سٹی جکارتہ میں نمائش پر رکھی گئے'' آؤٹ فٹس‘‘ یا ملبوسلت کی خبر دراصل زبانی طور پر ایک سے دوسرے تک پھیلتے پھیلتے ہر کسی کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

سائرہ وؤلان ساری ایک 15 سالہ طالب علم ہیں، جو شمالی جکارتہ کی رہائشی ہیں۔ وہ  اسکول کی پڑھائی چھوڑ کر صرف فروخت کر کے اپنا خرچا پورا کرتی ہے۔

وہ اپنی سہلیوں کے ساتھ سیتایام فیشن ویک میں شریک ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں، ''میں ہمیشہ دوسرے لوگوں کے لباس سے حیران رہ جاتی ہوں۔ ان کے کپڑے بہت خوشنما اور اسٹائلش ہوتے ہیں۔‘‘

اس اجتماع کو ٹوکیو کے مشہور زمانہ ہارایوکو فیشن ڈسٹرکٹ کے چھوٹے ورژن سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ تحریک اتنی مقبول ہو گئی ہے کہ 'کاپی کیٹ‘ اجتماعات انڈونیشیا کے سب سے زیادہ آبادی والے جزیرے جاوا کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر سیمارنگ اور بانڈونگ جیسے شہروں میں۔

اس کی وائرل ہونے والی شہرت نے مشہور شخصیات اور بااثر افراد کے ساتھ ساتھ صدر جوکو ویدودو سمیت دیگر سرکاری عہدیداروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ انڈونیشی صدر کا اس کے بارے میں کہنا تھا کہ نوجوانوں کو تخلیقی طور پر اپنا اظہار کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔

ک م/ ع ب) اے ایف پی(

 

                                                                                

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Syrien, Qamishli | Proteste wegen den Todes von Mahsa Amini

ایران: مظاہروں کے دوران ہی عراق میں کرد ملیشیا پر حملے

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں