جون میں ’مے‘ کی مشکلات بڑھ گئیں | حالات حاضرہ | DW | 09.06.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جون میں ’مے‘ کی مشکلات بڑھ گئیں

جون کا مہینہ برطانیہ کے لیے کچھ خاص اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس اسی ماہ میں برطانیہ نے یورپی یونین سے انخلاء کا فیصلہ کیا اور اب اسی مہینے میں وزیراعظم  مے نے پارلیمان میں اپنی اکثریت کھو دی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اپریل میں اچانک پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ وہ چاہتی تھیں کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا ء کے مذاکرات میں انہیں بھرپور حمایت حاصل ہو۔ تاہم انتخابی نتائج نے ان کی جماعت ’ٹوری پارٹی‘ کو مزید کمزور کر دیا۔ اس نتیجے نے انہیں شدید مایوس کیا ہے اور وہ اب اپنے منصوبے پر اُس طرح سے عمل درآمد نہیں کر پائیں گی جیسا کہ وہ چاہ رہی تھیں۔

قدامت پسند ٹوری جماعت کو 650 کی پارلیمان میں313 نشتسیں حاصل ہوئی ہیں، جو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں12 کم ہیں۔ برطانیہ میں تنہا حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 326 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیبر پارٹی کو 260 اور اسکاٹش نیشنل پارٹی ’ایس این پی‘ کے 34 ارکان پارلیمان میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس طرح اب برطانیہ میں مخلوط حکومت ہی بننے گی۔ اس کے باوجود مے نے کہا کہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گی،’’اس وقت اس ملک کو سب سے زیادہ ضرورت استحکام کی ہے۔‘‘

بریگزٹ مذاکرات کا کیا ہو گا؟

برطانوی انتخابات کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد برسلز کی جانب سے ابھی تک کوئی باقاعدہ بیان تو سامنے نہیں آیا ہے تاہم ایک یورپی اہلکار کے بقول انیس جون سے شروع ہونے والے بریگزٹ مذاکرات کے بارے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے، ’’یہ دیکھنا ہو گا کہ مستقبل کی برطانوی حکومت بریگزٹ کے حوالے سے کیا موقف اختیار کرتی ہے۔‘‘ فن لینڈ کے سابق وزیراعظم  الیگزینڈر اسٹوب نے اپنی ٹویٹ میں لکھا،’’ ایسا لگتا ہے کہ ہمیں بریگزٹ مذاکرات کے لیے مزید وقت چاہیے ہو گا اور وہ بھی تمام فریقین کے لیے‘‘۔

یورپی یونین میں بھی یہی خیال کیا جا رہا تھا اگر برطانوی وزیراعظم مے کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گی تو وہ بریگزٹ مذاکرات کے دوران یورپی یونین سے سمجھوتوں پر بہتر انداز میں سودے بازی کر سکیں گی۔ اس طرح وہ اپنی ہی جماعت میں یورپی یونین کے حامی دھڑے کے دباؤ میں بھی نہیں آئیں گی۔ دوسری جانب یورپی یونین کے رہنماؤں نے برطانیہ کے اس اتحاد میں دوبارہ شمولیت کے موضوع پر سوچنا بھی بڑی حد تک چھوڑ دیا ہے۔  

 مے کے لیے مشکلات

برطانوی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے وزیراعظم ٹریزا مے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ کوربن کے بقول اس نتیجے کے بعد مے نے اعتماد اور حمایت کھو دی ہے۔ ان کے بقول مے کو مستعفی ہوتے ہوئے کسی اصل نمائندہ حکومت کو موقع فراہم کرنا چاہیے۔ دوسری جانب مے کی اپنی ہی جماعت  کنزرویٹو پارٹی کی رکن پارلیمان انا سوبری نے کہا، ’’مے کو اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں ہم نے انتہائی مایوس کن انداز میں انتخابی مہم چلائی تھی۔‘‘

ٹریزا مے نے سات ہفتے قبل اچانک قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا حالانکہ برطانیہ میں 2020ء میں انتخابات ہونا تھے۔ ان کی جانب سے انتخابات کرانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا تھا، جب مختلف عوامی جائزوں میں یہ بات سامنے آئے تھی کہ اگر اس موقع پر انتخابات ہوئے تو مے بہت بھاری اکثریت سے کامیاب ہو جائیں گی۔