1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Großbritannien Protest gegen Verhaftung von Assange
تصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Dunham

’جولين اسانج شديد نفسياتی تشدد کا شکار بنے‘

1 جون 2019

جولين اسانج کو نفسياتی تشدد کا نشانہ بنايا جاتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ايک اہلکار نے يہ الزام عائد کرتے ہوئے اسانج پر کيے گئے مبینہ ظلم کی ذمہ داری مشترکہ طور پر امريکا، برطانيہ، سويڈن اور ايکواڈور پر عائد کی ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%AC%D9%88%D9%84%D9%8A%D9%86-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%AC-%D8%B4%D8%AF%D9%8A%D8%AF-%D9%86%D9%81%D8%B3%D9%8A%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D8%AF%D8%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%B4%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D9%86%DB%92/a-48998689

ملزمان کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک سے متعلق امور کی تفتيش کرنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی اہلکار نلس ميلزر نے کہا ہے کہ يہ بات صاف ظاہر ہے کہ کئی سال تک کافی جارحانہ اور سخت  ماحول ميں وقت گزارنے سے جولين اسانج کی صحت شديد متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جسمانی تکاليف کے علاوہ اسانج ميں شديد ذہنی دباؤ، انتہائی بے چينی کی کيفيت اور کسی بڑے صدمے سے گزرنے جيسے مسائل سميت نفسياتی جبر کے آثار صاف ظاہر ہيں۔‘‘ ميلزر نے يہ بيان گزشتہ روز يعنی اکتيس مئی کو ديا۔

اقوام متحدہ کے خصوصی اہلکار ميلزر نے نو مئی کو برطانوی دارالحکومت لندن کے ايک قيد خانے ميں اسانج سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر دو طبی ماہرين بھی ان کے ہمراہ تھے جو اس نوعيت کے کيسز ميں مہارت رکھتے ہيں۔ ان کے مطابق یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اسانج کو کافی عرصے تک اور دانستہ طور پر مختلف صورتوں ميں غير انسانی حد تک کے تشدد کا نشانہ بنايا گيا۔

نلس ميلزر نے خبردار کيا ہے کہ اسانج کی امريکا حوالگی سے ان کے بنيادی انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، ايک آزاد اور شفاف عدالتی کارروائی کا حق اور تشدد سے بچاؤ سميت متعدد حقوق خطرے ميں پڑ سکتے ہيں۔ ميلزر نے بتايا، ’’ميں امريکی محکمہ انصاف کے حاليہ اعلان پر کافی تشويش کا شکار ہوں، جس کےمطابق ملکی راز افشاں کرنے سے متعلق قوانين کے تحت اسانج کے خلاف سترہ کيسز تيار کيے جا رہے ہيں، جن کی سزا 175 برس کی قيد تک ہو سکتی ہے۔

سينتاليس سالہ جولين اسانج وکی ليکس نامی ويب سائٹ کے بانی ہيں۔ يہ ويب سائٹ حکومتوں و اعلی اہلکاروں کی بدعنوانی اور ديگر بڑے راز افشاں کرتی ہے۔ ماضی ميں عوامی معاملات سے تعلق رکھنے والے کئی اہم امور کے خفيہ دستاويزات اسی ويب سائٹ پر جاری کيے جاتے رہے، جو بعد ازاں ذرائع ابلاغ پر توجہ کا مرکز بنتے رہے۔ اسانج نے ايک کيس کے سلسلے ميں سويڈن حوالگی سے بچنے کے ليے سن 2012 سے لندن ميں ايکواڈور کے سفارت خانے ميں پناہ لے رکھی تھی۔ انہيں ایکوڈور حکومت کی ہدایت پر سفارت خانے سے نکالے جانے پر گرفتار کيا گيا اور پھر ضمانت کی شرائط کے خلاف ورزی پر وہ پچاس ہفتوں کی قيد کاٹ رہے ہيں۔

ع س / ع ح، نيوز ايجنسياں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Textilinsdustrie

پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضے، حالات کس قدر سنگین ہیں؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں