جنگی بحری جہازوں کو ہدف بنانے والے ایرانی میزائلوں کے تجربات | حالات حاضرہ | DW | 16.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جنگی بحری جہازوں کو ہدف بنانے والے ایرانی میزائلوں کے تجربات

ایران نے بحر ہند میں جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائلوں کے کامیاب تجربات کیے ہیں۔ ایران کی محافظین انقلاب نامی فورس کی طرف سے یہ تجربات ہفتہ سولہ جنوری کو دو روزہ فوجی مشقوں کے آخری دن کیے گئے۔

ایرانی محافظین انقلاب نے یہ میزائل تجربات ہفتہ سولہ جنوری کو دو روزہ فوجی مشقوں کے آخری دن کیے

ایرانی محافظین انقلاب نے یہ میزائل تجربات ہفتہ سولہ جنوری کو دو روزہ فوجی مشقوں کے آخری دن کیے

ایرانی ٹیلی وژن سے نشر کردہ رپورٹوں کے مطابق ان 'کامیاب‘ تجربات کے دوران ایرانی فورسز نے بحر ہند میں جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک  میزائلوں کے ذریعے کھلے سمندر میں ایک فرضی ہدف کو نشانہ بنایا۔

میزائل وسطی ایران سے فائر کیے گئے

ایران کی طرف سے ان میزائلوں کے تجربات ایک ایسے وقت پر کیے گئے ہیں جب امریکا کی طرف سے تہران پر دباؤ میں اضافے کی ایک باقاعدہ مہم جاری ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے تحت یورینیم کی ممنوعہ حد تک افزودگی کا عمل بحال کر دیے جانے کی وجہ سے تہران اور واشنگٹن کے مابین کھچاؤ بھی ایک بار پھر بہت زیادہ ہو چکا ہے۔

خلیج میں کشیدگی بڑھتی ہوئی: ایران کی میزائل ڈرل کی تیاری

ان بحری جنگی تجربات کی ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فوٹیج کے مطابق ان دو بیلسٹک میزائلوں سے بحر ہند میں ایک 'فرضی دشمن کے جنگی بحری جہاز‘ کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ محافظین انقلاب کے مطابق یہ میزائل وسطی ایران میں خشکی سے سمندر کی طرف فائر کیے گئے تھے۔

Iran Revolutionsgarden Übung Ballistische Raketen

ان تجربات کے دوران بحر ہند میں ایک ہدف کو وسطی ایران میں خشکی سے میزائل فائر کر کے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا

ان میزائلوں کی مار کتنے فاصلے تک؟

ایرانی نیوز ویب سائٹ سپاہ نیوز کے مطابق یہ دونوں بیلسٹک میزائل دو مختلف اقسام کے ہتھیار تھے، جن کی مدد سے 1800 کلومیٹر (1125 میل) کے فاصلے پر ہدف کو کامیابی سے ٹارگٹ کیا گیا۔

ایران القاعدہ کا نیا گڑھ ہے: امریکا

ان تجربات کے تناظر میں ایرانی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف محمد باقری نے کہا کہ ایران کسی بھی ملک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں رکھتا تاہم ان تجربات کی مدد سے اب ایران ''اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ کم سے کم وقت میں کسی بھی جارحانہ بیرونی فوجی اقدام پر اپنا بھرپور ردعمل ظاہر کر سکے۔‘‘

دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں تین طرح کی فوجی مشقیں

ایران نے آج ہفتے کے روز اپنے بیلسٹک میزائلوں کے جو دو تجربات کیے، وہ گزشتہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے کے دوران اس ملک کی طرف سے کی جانے والی اپنی نوعیت کی تیسری فوجی مشقوں کا حصہ تھے۔

ایران میں امریکا اور برطانیہ کی ویکسین پر پابندی

اس سے قبل ایران نے پہلے گزشتہ بدھ اور جمعرات کے روز خلیج عمان کے علاقے میں بحری مشقیں کی تھیں اور اس سے بھی قبل پانچ اور چھ جنوری کو ایرانی فوج نے اپنے ڈرون طیاروں کے ذریعے بھی عسکری مشقیں کی تھیں۔

قاسم سلیمانی کے قاتل ’زمین پر کہیں محفوظ نہیں،‘ ایرانی رہنما

امریکی اور اسرائیلی اہداف

ایران اب تک اپنے جتنے بھی میزائل تیار کر چکا ہے، ان کے ذریعے وہ اتنی صلاحیت حاصل کر چکا ہے کہ اس کے میزائل دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اسرائیل خلیج میں ایرانی ’ریڈ لائنز‘ پار کرنے سے باز رہے، تہران کی تنبیہ

ماہرین کے مطابق یہ صلاحیت تہران کے لیے خود اس کے اپنے بیانات کے مطابق اس لیے کافی ہے کہ یوں ایرانی افواج دیرینہ حریف ملک اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ علاقائی سمندری پانیوں میں امریکی جنگی بحری جہازوں تک کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔

م م / ع آ (اے ایف پی، اے پی)