جنوبی کوریا ’کمفرٹ ویمن‘ معاہدے میں تبدیلی سے باز رہے، جاپان | حالات حاضرہ | DW | 28.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جنوبی کوریا ’کمفرٹ ویمن‘ معاہدے میں تبدیلی سے باز رہے، جاپان

جاپانی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر جنوبی کوریا نے ’کمفرٹ ویمن‘ معاہدے میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی کی، تو اس سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑے گا۔

جمعرات اٹھائیس دسمبر کے روز جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے کہا کہ جاپان کے ساتھ سن 2015ء میں ’کمفرٹ ویمن‘ معاہدے میں کئی طرح کے سنجیدہ مسائل ہیں۔ تاہم جاپان  نے کہا ہے کہ اس معاہدے میں کسی بھی تحریف یا نظرثانی سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔

’دل بہلانے والی خواتین‘ کا مجسمہ، جاپان اور جنوبی کوریا میں سفارتی کشیدگی

جاپان اور جنوبی کوریا: ’’کمفرٹ ویمن کا تنازعہ ختم‘‘

’’آرام دہ خواتین‘‘ پر جاپانی معذرت تبدیل نہیں ہو گی، شانزو آبے

اس معاہدے پر تحقیق کرنے والے ایک جنوبی کوریائی پینل نے بدھ کے روز کہا تھا کہ یہ معاہدہ ان ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کی امنگوں کی ترجمانی کرنے میں ناکام رہا ہے، جنہیں دوسری عالمی جنگ میں جاپانی فوجیوں نے جنسی مقاصد اور جبری مشقت کے لیے استعمال کیا تھا۔ جاپان میں ان خواتین کو ’کمفرٹ ویمن‘ کہا جاتا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کی بابت جاری ان تلخ جملوں کے تناظر میں تعلقات میں یہ کشیدگی ایک ایسے وقت پر پیدا ہوئی ہے، جب یہ دونوں امریکی اتحادی ممالک شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں سے متعلق تنازعے کے حل کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔

جنوبی کوریا کے صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’یہ معاہدہ ’کمفرٹ ویمن‘ کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ سیاسی معاہدہ متاثرہ خواتین اور عوام کی امنگوں سے دور ہے اور بین الاقوامی سوسائٹی کے بنیادی اصولوں کے منافی بھی ہے۔‘‘

دوسری جانب جاپانی وزارت خارجہ کی ایک ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں سیئول پر سفارتی ذرائع سے ٹوکیو حکومت کا موقف واضح کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں جاپانی وزیر خارجہ تارو کونو اپنے بہت سخت ردعمل میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس معاہدے میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہ صرف جاپان کے لیے ’ناقابل قبول‘ ہو گی بلکہ تعلقات کو شدید نقصان بھی پہنچائے گی۔

دوسری جانب جنوبی کوریائی صدر کے ایک ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا صدر مون جے اِن اس معاہدے کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تو ترجمان نے کہا کہ فی الحال یہ بات کہنا ’نامناسب‘ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں سیئول حکومت جلد ہی اپنی حتمی پوزیشن واضح کر دے گی۔

DW.COM

اشتہار