1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Türkei Manavgat | Waldbrände
تصویر: Kaan Soyturk/REUTERS

جنوبی ترکی کی جنگلاتی آگ، ہلاکتیں چار ہو گئیں

31 جولائی 2021

ترکی کے جنوبی حصے میں واقع جنگلات میں لگی آگ کی شدت میں کمی نہیں آئی ہے۔ فائر بریگیڈز کے ہزاروں کارکن اس آگ کی شدت کو کم کرنے یا بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

https://www.dw.com/ur/%D8%AC%D9%86%D9%88%D8%A8%DB%8C-%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%D9%86%DA%AF%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%D8%A7%D9%93%DA%AF-%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9%D8%AA%DB%8C%DA%BA-%DA%86%D8%A7%D8%B1-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%8C%DA%BA/a-58713754

آگ نے جہاں جنگلات کو جلا کر راکھ کر دیا ہے وہاں اس کی لپیٹ میں آئے گھروں کو بھی جلا کر خاکستر کر دیا ہے۔ آگ کے خطرے کو دیکھتے ہوئے کئی دیہات کے مکینوں نے مجبوری میں اپنے اپنے گھروں کو خالی کرنے میں عافیت سمجھی۔ دوسری جانب حکام نے آگ کی وجہ سے ساحلی پٹی پر واقع رہائشی علاقوں، گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں میں سے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

طوفانوں، سیلابوں، جنگلاتی آگ اور خشک سالی سے لاکھوں انسان بے گھر

آگ بجھانے کی کوششیں جاری

جنوبی ترکی کے چھ صوبوں کے چودہ مقامات پر جنگلاتی آگ درختوں اور جھاڑیوں کو بھسم کر رہی ہے۔ یہ چھ صوبے بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن کی ساحلی پٹی کے نزدیک ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بتایا ہے کہ شدید گرمی اور تیز رفتار ہواؤں سے پھیلنے والی آگ کو کم از کم ستاون مقامات پر بجھا دیا گیا ہے۔

Türkei | Waldbrände in Bodrum
ترک ساحلی قصبے بودرم میں لگی آگ ساحلی پٹی تک پہنچ چکی ہےتصویر: ANKA

آگ بدھ اٹھائیس جولائی کو بھڑکی تھی۔ اس آگ نے سیاحوں میں مقبول ساحلی مقام مارماریس کے لیے بھی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ترک وزیر زراعت باقر پکدامیرلی کا کہنا ہے کہ کئی علاقے پر لگی آگ پر قابو پانے کے لیے چند مزید ایام درکار ہیں۔

شدید آگ سے خوف و ہراس

اس وقت  جنگلاتی آگ نے انطالیہ علاقے کے دو مقامات اکسیکئی اور مناوگات میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ تیز رفتار ہوا شعلوں میں مزید شدت اور انہیں بلند کرنے میں مددگار ہے۔ اسی علاقے میں بدھ کے روز ایک بیاسی سالہ شخص اور ایک شادی شدہ جوڑے کی ہلاکت کی وجہ بھی یہی آگ تھی۔

سرجن نے آگ لگنے کے باوجود دل کی سرجری جاری رکھی

اس آگ کی وجہ سے جل کر راکھ ہو جانے والے ایک گاؤں کے پچاس افراد کو ہسپتالوں میں داخل بھی کیا گیا۔ اسی بڑے گاؤں کے قریب پچیس دوسری ملحقہ چھوٹی چھوٹی بستیوں کے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس دوران کئی ترک صوبوں نے لوگوں کی جنگلات میں سیر و سیاحت کے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

Türkei Manavgat | Waldbrände
کئی ترک صوبوں نے لوگوں کی جنگلات میں سیر و سیاحت کے جانے پر پابندی عائد کر دی ہےتصویر: Kaan Soyturk/REUTERS

مارماریس کو بھی خطرہ لاحق

بحیرہ روم کے کنارے پر واقع خوبصورت ساحلی قصبے مارماریس کو بھی آگ نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسی علاقے میں جمعرات انتیس جولائی کو آگ بجھانے والوں کی مدد کرنے والا پچیس برس کا رضاکار حادثے کا شکار ہو گیا۔ وہ فائر فائٹرز کے لیے پینے کا پانی لے کر جا رہا تھا کہ اسے ایک موٹر سائکل کی ٹکر لگی۔

اب آگ سے ہونے والی تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ مارماریس انطالیہ سے تین سو بیس کلومیٹر دور مغرب میں واقع ہے۔ پہاڑوں  پر واقع گھنے جنگلات میں لگی آگ نے مارماریس کی رنگین شبینہ زندگی کی حامل پررونق گلیوں کو ویران کر دیا ہے۔ اسی طرح بحیرہ ایجیئن کے کنارے پر آباد قصبے بودرم کے ایک لگژری ہوٹل میں مقیم افراد کو کشتیوں پر بٹھا کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

ترک حکام نے تفتیش شروع کر دی

جنوبی ترکی میں لگنے والی آگ کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اس کا تعین کیا جا سکے کہ یہ آگ کسی انسان کی غلطی یا دانستہ کارروائی کا نتیجہ تو نہیں۔

Türkei | Waldbrände in Bodrum
کئی سو فائر فائٹرز اور رضاکار آگ بجھانے کی کوششوں میں شامل ہیںتصویر: ANKA

مارماریس کے میئر کا تو یہ کہنا ہے کہ اگ لگنے کے پیچھے ترک مخالف قوتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے جمعہ تیس جولائی کو بتایا تھا کہ وزارت داخلہ اور خفیہ ادارے مشترکہ طور پر انکوائری میں شامل ہیں۔

امریکی جنگلاتی آگ: اوریگن میں ’بڑی تباہی‘

یہ امر اہم ہے کہ ترکی کے بحیرہ ایجیئن اور روم کے ساحلی علاقوں میں موسم گرما میں آگ بھڑک اٹھنا ایک معمول ہے۔ اس وقت بھی درجہء حرارت بیالیس ڈگری سیلسیئس تک پہنچا ہوا ہے۔ ماضی میں آگ لگنے کے کچھ واقعات کو کُرد عسکریت پسندوں کی کارروائی بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

ع ح/ع ت (اے پی)

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Textilinsdustrie

پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضے، حالات کس قدر سنگین ہیں؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں