جنسی زیادتی کی گئی، افغان فٹ بال خواتین کھلاڑیوں کا الزام | کھیل | DW | 03.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

جنسی زیادتی کی گئی، افغان فٹ بال خواتین کھلاڑیوں کا الزام

افغان خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی دو کھلاڑیوں نے فٹ بال فیڈریشن اور متعدد کوچوں پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ انہیں جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

افغان خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی دو کھلاڑیوں کی طرف سے عائد کیے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد افغانستان میں ایک ہلچل مچ گئی ہے۔ ان خواتین کھلاڑیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم افغان فٹ بال فیڈریشن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ان فغان خواتین کھلاڑیوں کے الزامات کے بعد فٹ بال کے منتظم عالمی ادارے فیفا نے حقائق جاننے کی خاطر اپنی انکوائری شروع کر دی ہے۔ افغان خواتین کی فٹ بال ٹیم کی متعدد کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ بہتر زندگی اور مالیاتی مراعات کے عوض کوچنگ اسٹاف انہیں جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

ان الزامات کی زد میں افغان فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ کریم الدین کریم اور دیگر کوچز بھی آئے ہیں۔ تاہم کریم نے کہا، ’’میں اس (ان الزامات) کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔‘‘ میڈیا رپورٹوں کے مطابق کریم اس تمام اسکینڈل میں مرکزی کردار ہیں۔

Shabnam Mubarez

افغان خواتین کی فٹ بال ٹیم کی کپتان شبنم مابرز

ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں کریم کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اردن میں شروع ہوا، جہاں ایک تربیتی کیمپ لگایا گیا تھا، ’’یورپ اور امریکا سے تعلق رکھنے والی تین کھلاڑیوں نے حجاب نہیں پہنا ہوا تھا، اس کے نتیجے میں افغانستان میں غم و غصہ پیدا ہوا۔‘‘ کریم کے مطابق اس معاملے پر انہیں وطن میں علماء کو وضاحت پیش کرنا پڑی۔

کریم نے کہا کہ اس معاملے کے بعد ایک ویمن کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام خواتین کھلاڑی حجاب پہنیں گی تاہم کچھ کھلاڑیوں نے اس پر عمل نہ کیا اور انہیں ڈراپ کر دیا گیا۔ کریم کے بقول یہی معاملہ بعدازاں بڑا ہوا اور ان کھلاڑیوں نے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کر دیے۔

تاہم افغان خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی کپتان شبنم مابرز اور ان کی پشرو خالدہ پوپل نے کریم کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ پوپل نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ’’افغان فٹ بال فیڈریشن میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد ہماری لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ جنسی طور پر چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے۔‘‘

ع ب / ن ص / اا

DW.COM